Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال اور عسکریت پسندی: عظمیٰ بخاری کی مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر کڑی تنقید

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے مولانا فضل الرحمان کے خیبر پختونخوا کے حوالے سے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا شکار رہنے والی قیادت کا موجودہ صوبائی سیٹ اپ کی وکالت کرنا افسوسناک ہے۔

خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال اور عسکریت پسندی: عظمیٰ بخاری کی مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر کڑی تنقید

اہم ترین حقائق و پس منظر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کی موجودہ ابتر صورتحال کی ذمہ دار صوبائی قیادت ہے، جس کی حمایت کرنا حیران کن ہے۔ انہوں نے یاد دہانی کروائی کہ مولانا فضل الرحمان بذاتِ خود طویل عرصے تک دہشت گردی اور انتہا پسندی کا شکار رہے ہیں، لہٰذا ان کی جانب سے ایسے عناصر کی بالواسطہ تائید افسوسناک ہے جن کی پالیسیوں نے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیلا۔ گزشتہ ایک دہائی سے خیبر پختونخوا میں جاری انتظامی کمزوریوں، سیکیورٹی معاملات میں غفلت اور سیاسی ترجیحات کے سبب امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک موڑ پر پہنچ چکی ہے، جس نے وفاق اور صوبوں کے درمیان تناؤ میں بھی اضافہ کیا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات سیاسی کھینچ تان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی چیلنجز کے ملک کی مجموعی معیشت اور خاص طور پر علاقائی تجارت پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت مخدوش ہونے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ لاگت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا براہِ راست اثر اشیائے خوردونوش اور صنعتی خام مال کی قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔ کسٹمز کلیئرنس، سپلائی چین کے تعطل اور مقامی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ پشاور سمیت صوبے کے بڑے تجارتی مراکز میں سرمایہ کاری کا حجم سکڑ رہا ہے، جبکہ درآمدات و برآمدات کے تسلسل میں رکاوٹیں قومی خزانے کے ریونیو کو بھی متاثر کر رہی ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل مسلم لیگ (ن) کی ترجمان اور صوبائی وزیر اطلاعات کا موقف ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام وسائل کی بدانتظامی اور مسلسل انتشار کی سیاست کا خمیازہ بھگت رہے ہیں، جبکہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت ریاستی معاملات سنبھالنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔ دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کا یہ استدلال رہا ہے کہ پارلیمانی اور جمہوری استحکام کے لیے تمام قوتوں کو سیاسی عمل کا حصہ بنانا ناگزیر ہے تاکہ خطے کو مزید کشیدگی سے بچایا جا سکے۔ تاہم آزاد سیاسی و معاشی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ جب تک امن عامہ کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوتے اور قومی سلامتی پر یکسوئی قائم نہیں کی جاتی، تب تک صوبائی معیشت کو بحال کرنا ناممکن رہے گا۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں اگر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان کشیدگی کم نہ ہوئی تو امن و امان کے ساتھ ساتھ معاشی بحالی کے اقدامات مزید تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ خیبر پختونخوا میں معاشی استحکام لانے کے لیے انسداد دہشت گردی کے قومی لائحہ عمل پر بلاتفریق عملدرآمد اور تاجر برادری کو تحفظ فراہم کرنا اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ سیاسی قیادت کو الزام تراشی کے بجائے ایسے جامع اقدامات پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی جس سے مقامی معیشت کو سہارا ملے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ بصورت دیگر خطے کے تجارتی روابط اور عوامی معاشی بہبود کے حوالے سے بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال اور عسکریت پسندی: عظمیٰ بخاری کی مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات پر کڑی تنقید