Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

دہشت گردی کی مذمت اور سیکیورٹی اداروں کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ: شوکت یوسفزئی کا اہم بیان

سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے دہشت گردی کے ہر واقعے کی مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پوری قوم سیکیورٹی چیلنجز کے خلاف اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

دہشت گردی کی مذمت اور سیکیورٹی اداروں کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ: شوکت یوسفزئی کا اہم بیان

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبر پختونخوا کے سابق صوبائی وزیر اور سینئر سیاست دان شوکت یوسفزئی نے ملکی سلامتی اور حالیہ سیکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں ایک دوٹوک اور باضابطہ بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں اور ریاست مخالف عناصر کے خلاف کارروائیوں میں قوم مکمل طور پر اپنی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے۔ ماضی میں بھی صوبے نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری جانی و مالی نقصانات برداشت کیے ہیں، اور موجودہ حالات میں تمام سیاسی و سماجی تفریق کو بالائے طاق رکھ کر قومی سلامتی کے تقاضوں کو مقدم رکھنا لازمی ہو چکا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی لازوال قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قیام امن کے بغیر کوئی بھی خطہ ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔

تجارتی و معاشی اثرات امن و امان کی مجموعی صورتحال کا براہ راست اثر ملکی اور علاقائی معیشت پر پڑتا ہے۔ خیبر پختونخوا، جو کہ وسطی ایشیا اور افغانستان کے ساتھ تجارت کا اہم ترین راستہ ہے، بدامنی اور عدم استحکام کے باعث شدید تجارتی مشکلات کا شکار رہا ہے۔ ہول سیل اور ریٹیل سیکٹر کے نمائندوں کے مطابق، امن و امان کی غیریقینی صورتحال سے سپلائی چین متاثر ہوتی ہے اور تجارتی نقل و حمل کے اخراجات میں غیرمعمولی اضافہ ہو جاتا ہے۔ سرمایہ کار اور تاجر برادری پرسکون ماحول میں ہی نئی سرمایہ کاری کا خطرہ مول لے سکتی ہے۔ اگر سیکیورٹی صورتحال مستحکم رہتی ہے تو سرحدی تجارت، زرعی پیداوار کی ترسیل اور مقامی منڈیوں میں اعتماد بحال ہوگا، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور افراط زر کو قابو میں لانے میں مدد ملے گی۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل شوکت یوسفزئی کے مطابق سیاسی جماعتوں کے درمیان نظریاتی اور انتخابی اختلافات اپنی جگہ موجود ہو سکتے ہیں، لیکن ملکی خودمختاری، امن کی بحالی اور قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔ تاجر تنظیموں اور چیمبر آف کامرس کے نمائندوں نے بھی ان کے اس موقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کاروباری مراکز اور ہائی ویز کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ اشیائے ضروریہ کی ترسیل میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔ حکومتی حلقوں کی جانب سے بھی یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ تخریب کاری اور انتہا پسندی کا خاتمہ ریاست کی اولین ترجیح ہے جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

مستقبل کا منظرنامہ ماہرین کے مطابق خطے میں معاشی بحالی کا دارومدار مکمل طور پر سیکیورٹی کے حالات میں بہتری سے جڑا ہوا ہے۔ آئندہ دنوں میں توقع کی جا رہی ہے کہ سیکیورٹی فورسز انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں تیزی لائیں گی تاکہ سماج دشمن عناصر کی بیخ کنی کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، تاجروں اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے انتظامی سطح پر اضافی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اگر پائیدار امن کے قیام میں کامیابی حاصل ہوتی ہے تو صنعتی زونز میں تجارتی سرگرمیاں تیز ہوں گی اور خیبر پختونخوا کی معیشت مستحکم ہو سکے گی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
دہشت گردی کی مذمت اور سیکیورٹی اداروں کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ: شوکت یوسفزئی کا اہم بیان