سیاسی محاذ آرائی اور احتجاجی سیاست کے ملکی معیشت پر اثرات: مریم نواز کا بیان اور معاشی تجزیہ
مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے لانگ مارچ کے سیاسی و انتظامی مضمرات پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے، جبکہ ماہرین نے پائیدار پالیسیوں کے نفاذ پر زور دیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت نے حالیہ سیاسی کشمکش اور احتجاجی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاریخ میں احتجاج اور لانگ مارچ کے ایسے نتائج شاذ و نادر ہی دیکھے گئے ہیں جن سے ملکی نظام اور خود تحریک چلانے والی جماعت کے سیاسی مستقبل پر منفی اثرات مرتب ہوں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق بار بار کے دھرنوں اور احتجاجی مارچوں سے ریاستی مشینری غیر ضروری دباؤ کا شکار ہوتی ہے اور نظم و نسق کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ماضی اور حال کے سیاسی منظرنامے کا تقابلی جائزہ ظاہر کرتا ہے کہ محاذ آرائی کی سیاست نے ملکی وسائل کے غیر پیداواری استعمال کو فروغ دیا ہے جس سے بنیادی گورننس کے شعبے شدید متاثر ہوئے ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات سیاسی ہلچل اور راستوں کی بندش سے سب سے زیادہ متاثر ملک کا معاشی اور تجارتی ڈھانچہ ہوتا ہے۔ صنعتی شہروں سے خام مال اور زرعی پیداوار کی ترسیل تعطل کا شکار ہونے سے ہول سیل اور ریٹیل منڈیوں میں اجناس کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ کراچی، لاہور، گوجرانوالہ اور فیصل آباد کے صنعتی مراکز میں پیداواری لاگت بڑھنے کے ساتھ ساتھ تاجروں کے مالی معاملات میں غیر یقینی کی صورتحال جنم لیتی ہے۔ روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر دباؤ بھی ایسی ہی سیاسی بے یقینی کا شاخسانہ ہوتا ہے، جس سے براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں ہچکچاہٹ پیدا ہوتی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام اور معاشی نمو کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، اور احتجاج کی آڑ میں انتشار پھیلانا قومی معیشت کے مفاد میں نہیں۔ دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعتوں کا مؤقف رہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی قوت کا آئینی حق ہے اور عوامی مطالبات کی شنوائی کے لیے سیاسی تحریک ناگزیر ہوتی ہے۔ تاجر تنظیموں اور چیمبرز آف کامرس نے تمام فریقین سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی تنازعات کا حل ایوانوں اور مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جائے تاکہ صنعت و حرفت کا پہیہ بلا تعطل چلتا رہے۔
مستقبل کا منظرنامہ آنے والے دنوں میں معاشی بحالی کا انحصار بڑی حد تک سیاسی درجہ حرارت میں کمی پر منحصر ہے۔ اگر تمام فریقین نے باہمی مکالمے اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار نہ کیا تو مالی سال کے طے شدہ اہداف کا حصول مشکل ہو جائے گا۔ ماہرین معاشیات کے مطابق پاکستان کو بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدوں کی تکمیل اور زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کے لیے مسلسل سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔ فیصلہ سازوں کو اب تجارتی مفادات اور عوامی معیشت کو ترجیح دیتے ہوئے اصلاحات کا عمل آگے بڑھانا ہوگا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp