لکی مروت سے کرک تک پی ٹی آئی کا لانگ مارچ: بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کرتے ہیں، سہیل آفریدی
خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بند کمروں کے فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے مذاکرات میں نامناسب مطالبات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر
اتوار کی دوپہر خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت سے روانہ ہونے والا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا طویل احتجاجی لانگ مارچ اپنے طے شدہ راستوں سے گزرتے ہوئے ضلع کرک پہنچ گیا ہے۔ اس مارچ کی قیادت صوبائی حکومت کے اعلیٰ ترین نمائندگان اور پارٹی رہنما کر رہے ہیں۔ لکی مروت سے شروع ہونے والے اس سفر کے دوران مختلف مقامات پر کارکنوں کی بڑی تعداد نے جلوس کا استقبال کیا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، موجودہ سیاسی صورتحال میں یہ مارچ صوبائی اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھانے کا باعث بن رہا ہے، جبکہ سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
تجارتی و معاشی اثرات
سیاسی ریلیوں، دھرنوں اور لانگ مارچ کے براہ راست اثرات صوبے کی معیشت اور تجارت پر پڑ رہے ہیں۔ کرک اور لکی مروت سمیت ملحقہ اضلاع میں اہم شاہراہوں کی بندش اور نقل و حرکت محدود ہونے سے تجارتی سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں۔ سپلائی چین متاثر ہونے کی وجہ سے اشیائے خورونورد اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی نقل و حمل میں مشکلات کا سامنا ہے، جس سے مقامی منڈیوں میں ریٹیلرز اور عام صارفین کو مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ تجارتی حلقوں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس نوعیت کے احتجاجی مظاہروں سے نہ صرف صوبے کی اقتصادی ترقی متاثر ہوتی ہے بلکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے، جو کہ پہلے ہی ملکی معاشی بحران کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل
کرک میں مارچ کے شرکا سے پرجوش خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کی جماعت ہمیشہ مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتی ہے، تاہم حالیہ مذادکراتی عمل میں بعض ایسے مطالبات سامنے آئے ہیں جنھیں صوبے اور عوام کے وسیع تر مفاد کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے طاقتور حلقوں کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے عوام کو بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلے ہرگز قبول نہیں ہیں۔ دوسری جانب، سیاسی مخالفین نے اس مارچ کو صوبائی وسائل کے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور امن عامہ کو خراب کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
آئندہ چند روز میں اس لانگ مارچ کے جڑواں شہروں اور دارالحکومت کی طرف بڑھنے کے امکانات کے پیش نظر سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ اگر فریقین کے مابین مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند ہو جاتا ہے تو تصادم کی فضا مزید گہری ہو سکتی ہے، جس سے ملک بھر بالخصوص خیبرپختونخوا کے معاشی اور سیاسی منظرنامے پر دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ کاروباری برادری اور عوامی حلقوں نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور معاملات کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ معاشی استحکام کو مزید نقصان نہ پہنچے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.