Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خیبر پختونخوا میں سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال اور مالیاتی و انتظامی شفافیت کے تقاضے

خیبر پختونخوا کے مشیر سہیل آفریدی کے لکی مروت کے دورے کے لیے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال نے انتظامی شفافیت اور مالیاتی ضابطہ کار پر اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال اور مالیاتی و انتظامی شفافیت کے تقاضے

اہم ترین حقائق و پس منظر

حالیہ دنوں میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی سرگرمیاں کور کرنے والے آفیشل واٹس ایپ چینل پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی جس میں سہیل آفریدی کو لکی مروت پہنچنے کے لیے ہیلی کاپٹر کا استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لکی مروت آمد پر ان کے استقبال کے لیے پارٹی کے پرچم اٹھائے ہوئے کارکنان بھی موجود تھے۔ اس دورے نے سیاسی حلقوں کے ساتھ ساتھ میڈیا میں بھی بحث مباحثے کو جنم دیا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب صوبائی سطح پر سرکاری اخراجات اور وسائل کے کڑے احتساب کی بات کی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ سفر بظاہر کسی سرکاری کام کے سلسلے میں تھا، تاہم سیاسی اجتماعات اور پارٹی کارکنان کی موجودگی نے اس کے انتظامی جواز پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات

کالیار ٹریڈرز کے مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق، صوبائی حکومتوں کی طرف سے فضائی سفر اور مہنگے سرکاری وسائل کا اس طرح کا استعمال براہ راست عام آدمی کی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ معاشی منظرنامے میں، جہاں مہنگائی کی شرح بلند ہے اور صوبائی حکومتیں مالیاتی خسارے کا شکار ہیں، ہر ایک سرکاری دورے پر اٹھنے والے اخراجات کا بار بالآخر ٹیکس دہندگان پر ہی پڑتا ہے۔ کاروباری طبقے اور ریٹیلرز کے نزدیک، جب حکومتی سطح پر کفایت شعاری کے دعوے کیے جائیں اور دوسری طرف اس قسم کے اقدامات سامنے آئیں، تو اس سے مارکیٹ میں پائیدار مالیاتی نظم و ضبط اور گورننس کے حوالے سے منفی تاثر پیدا ہوتا ہے۔ معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ سرکاری مشینری کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتی جائے تاکہ عوامی فنڈز کا زیاں روکا جا سکے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل

اس معاملے پر سرکاری ذرائع کا مؤقف ہے کہ سہیل آفریدی کا یہ دورہ ایک سرکاری مصروفیت کے تحت تھا اور سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے دستیاب وسائل کا ضابطے کے مطابق استعمال کیا گیا۔ تاہم، حزب اختلاف اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کا کہنا ہے کہ سرکاری ہیلی کاپٹر پر پارٹی پرچم اٹھائے ہوئے کارکنان کا استقبالیہ جمہوریت اور انتظامی اخلاقیات کے منافی ہے۔ ان حلقوں کا مطالبہ ہے کہ صوبائی حکومت کو اس بات کی مکمل وضاحت کرنی چاہیے کہ آیا اس سفر کے جملہ اخراجات سرکاری خزانے سے ادا کیے گئے یا پارٹی فنڈز سے، تاکہ عوام کے سامنے حقائق کی شفاف تصویر آ سکے۔

مستقبل کا منظرنامہ

آئندہ دنوں میں اس واقعے کے اثرات صوبائی اسمبلی کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر محسوس کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اس معاملے کو اسمبلی کے پلیٹ فارم پر اٹھانے کا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ سرکاری وسائل کے مبینہ سیاسی استعمال کے خلاف قرارداد یا تحریک التوا پیش کی جا سکے۔ معاشی اور انتظامی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے اس قسم کے معاملات پر شفافیت کو یقینی نہ بنایا تو صوبے میں گڈ گورننس کے بیانیے کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ طویل المدتی بنیادوں پر، سرکاری وسائل کے استعمال کے لیے سخت ضابطے مرتب کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کسی بھی قسم کے غلط استعمال کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کیے جا سکیں۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خیبر پختونخوا میں سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال اور مالیاتی و انتظامی شفافیت کے تقاضے