Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

وزیراعظم کا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے قرضوں کا حجم بڑھانے کا حکم

وزیراعظم نے ملک میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو فروغ دینے کے لیے قرضوں کی حد بڑھانے اور بینکاری نظام کو آسان بنانے کی باضابطہ ہدایات جاری کی ہیں۔

وزیراعظم کا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے قرضوں کا حجم بڑھانے کا حکم

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی معاشی جائزہ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ملکی معیشت کے استحکام اور نجی شعبے کی فعالیت کے پیش نظر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز) کے لیے قرضوں کی حد بڑھانے کی حتمی ہدایات جاری کی ہیں۔ حکومت کے اس فیصلے کا بنیادی پس منظر موجودہ معاشی چیلنجز، شرح سود کے دباؤ اور پیداواری لاگت میں اضافے کے باعث متاثر ہونے والے مائیکرو اور اسمال بزنسز کو درپیش مشکلات ہیں۔ اس اجلاس میں وزارتِ خزانہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور نجی بینکاری شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ روایتی طور پر بینکاری شعبہ صرف بڑے صنعتی اداروں پر اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں معیشت کا حجم اور روزگار کے مواقع محدود رہتے ہیں۔ لہٰذا، قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے ایس ایم ای سیکٹر کے لیے فنانسنگ کا دائرہ کار وسیع کرنا وقت کی ناگزیر ضرورت بن چکا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین اور مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق چھوٹے کاروباروں کے لیے قرض کی گنجائش بڑھانے کا اقدام مارکیٹ میں براہِ راست نقد بہاؤ کو تحریک دے گا۔ ملک بھر کے ریٹیلرز، مینوفیکچررز اور چھوٹے زرعی پروسیسرز جو مہنگی لاگت اور سرمائے کی کمی کے باعث بندش یا سست روی کا شکار تھے، اس فیصلے سے مستفید ہو سکیں گے۔ صنعتی مصنوعات کی سپلائی چین مستحکم ہوگی اور مقامی سطح پر روزگار کے نئے دروازے کھلیں گے۔ اس کے ساتھ ہی، غیر رسمی معیشت کو رسمی بینکاری نظام کا حصہ بنانے میں مدد ملے گی، جس سے حکومتی ٹیکس بیس میں بتدریج وسعت متوقع ہے۔ مالیاتی اداروں کی جانب سے رسک اسسمنٹ کے نئے ماڈلز متعارف کرانے سے مارکیٹ میں کاروباری سرگرمیوں کا ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ معاشی بحالی کا اصل دارومدار ایس ایم ای سیکٹر کی ترقی پر ہے اور پالیسی ساز ادارے اس عمل کو شفاف اور تیز رفتار بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ دوسری جانب تاجر تنظیموں اور ایوان ہائے صنعت و تجارت نے وزیراعظم کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ صرف قرض کی مالیت بڑھانا کافی نہیں ہوگا بلکہ کمرشل بینکوں کی جانب سے طلب کی جانے والی بھاری ضمانتوں اور سخت شرائط کو بھی نرم کیا جانا چاہیے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ دستاویزی پیچیدگیوں کو کم کیے بغیر عام دکاندار اور چھوٹا تاجر ان اسکیموں سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے اس ضمن میں باضابطہ فریم ورک جاری کیے جانے کا امکان ہے، جس کے تحت بینکاری اداروں کو ایس ایم ای فنانسنگ کے سالانہ اہداف دیے جائیں گے۔ اگر حکومت اور مالیاتی ادارے آسان شرائط پر قرضوں کی تیز رفتار فراہمی کو یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو ملکی پیداواری صلاحیت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔ آنے والے وقت میں مائیکرو فنانسنگ اور فن ٹیک پلیٹ فارمز کا کردار بھی مرکزی اہمیت اختیار کر جائے گا، جس سے پاکستان کے صنعتی ڈھانچے کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
وزیراعظم کا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے قرضوں کا حجم بڑھانے کا حکم