Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

کراچی کے انڈس اسپتال میں ریبیز کا نیا کیس رپورٹ، سگ گزیدگی کے بحران پر عوامی اور معاشی تشویش

کراچی کے انڈس اسپتال میں 38 سالہ شہری میں ریبیز کی تصدیق کے بعد شہری حلقوں اور کاروباری طبقات میں شدید تشویش پیدا ہوگئی ہے، جس سے حفظان صحت کے بحران کے معاشی اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔

کراچی کے انڈس اسپتال میں ریبیز کا نیا کیس رپورٹ، سگ گزیدگی کے بحران پر عوامی اور معاشی تشویش

اہم ترین حقائق و پس منظر کراچی کے معروف نجی فلاحی اسپتال، انڈس ہسپتال میں ایک اڑتیس سالہ مریض میں ریبیز کی طبی تصدیق ہوئی ہے۔ اسپتال کے متعدی امراض کے ماہرین کے مطابق مریض کو چند ہفتے قبل آوارہ کتے نے کاٹا تھا، تاہم بروقت اینٹی ریبیز ویکسین اور ایمیونوگلوبلین نہ ملنے کے باعث وائرس نے اعصابی نظام کو متاثر کیا۔ پاکستان میں ریبیز یا سگ گزیدگی کا مرض ایک انتہائی مہلک صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں ہر سال ہزاروں افراد آوارہ کتوں کے کاٹنے کا شکار بنتے ہیں۔ کراچی جیسے صنعتی و تجارتی مرکز میں شہری انتظامیہ کی غفلت اور بنیادی طبی مراکز میں ادویات کی کمی کے باعث ریبیز کے واقعات مسلسل رپورٹ ہو رہے ہیں، جو بنیادی شہری سہولیات کی ابتر صورتحال کو واضح کرتے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات ریبیز کے پھیلاؤ کے اثرات محض صحت کے شعبے تک محدود نہیں بلکہ اس کے گہرے معاشی مضمرات بھی ہیں۔ صنعتی علاقوں اور تجارتی منڈیوں کے اطراف آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث مزدور طبقے اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کی نقل و حرکت شدید متاثر ہو رہی ہے۔ رات کے اوقات میں کام کرنے والے کارکنان عدم تحفظ کا شکار ہیں جس سے پیداواری عمل پر منفی اثر پڑتا ہے۔ دوسری جانب، علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور اینٹی ریبیز ویکسین کی بلیک مارکیٹنگ نے عام شہریوں کی مالی حالت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ نجی شعبے میں ایمیونوگلوبلین کی قیمتیں متوسط طبقے کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، جس سے ادویات کی منڈی میں مصنوعی قلت اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل طبی ماہرین اور انڈس اسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ریبیز سو فیصد قابلِ علاج مرض ہے بشرطیکہ کتے کے کاٹنے کے فوری بعد معیاری ویکسینیشن کا عمل مکمل کیا جائے۔ ماہرین نے سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ شہر بھر میں ویکسین کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائیں۔ دوسری طرف، بلدیاتی حکام کا مؤقف ہے کہ سگ گزیدگی کی روک تھام کے لیے مختلف اضلاع میں کتوں کی نس بندی اور ویکسینیشن کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، تاہم وسائل کی کمی کے باعث پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔ سول سوسائٹی اور تاجر برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صحت عامہ کے اس سنگین مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکا جا سکے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند مہینوں میں اگر ضلعی انتظامیہ نے آوارہ کتوں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے جامع اور مربوط پالیسی اختیار نہ کی تو کراچی میں ریبیز کے کیسز میں مزید خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ مستقبل میں اس بحران سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی ادارہ صحت کے اصولوں کے مطابق 'کتے کی ویکسینیشن' کی ملک گیر مہم چلائی جائے اور سرکاری اسپتالوں میں پوسٹ ایکسپوژر پرو Profileیکسس کی مفت فراہمی یقینی بنائی جائے۔ اگر حکومتی مشینری نے مؤثر حکمت عملی نہ اپنائی تو اس سے نہ صرف شہری زندگی مفلوج ہوگی بلکہ معیشت اور لیبر فورس پر بوجھ مزید بڑھے گا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
کراچی کے انڈس اسپتال میں ریبیز کا نیا کیس رپورٹ، سگ گزیدگی کے بحران پر عوامی اور معاشی تشویش