پشاور ہائیکورٹ کا لاپتہ افراد کے معاملے پر سخت اظہار برہمی، ریاستی رٹ اور عوامی تحفظ پر سنگین سوالات
پشاور ہائیکورٹ نے صوبائی وزیر اور اراکین اسمبلی کی گمشدگی پر شدید ردعمل دیتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ جب منتخب نمائندے محفوظ نہیں تو عام شہری کے حقوق کی کیا ضمانت ہو سکتی ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پشاور ہائیکورٹ میں لاپتہ افراد سے متعلق اہم درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے ملک میں قانون کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ سماعت کے دوران فاضل جج نے واضح ریمارکس دیے کہ اگر صوبائی وزراء اور قانون ساز اسمبلی کے اراکین ہی لاپتہ ہو جائیں تو ایسی صورتحال میں عام شہریوں کے تحفظ اور بنیادی حقوق کی حالت کیا ہوگی۔ عدالت نے صوبائی اور وفاقی انتظامی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی بلاجواز گمشدگی اور قانونی ضابطوں کی عدم پیروی کسی جمہوری ریاست کے شایان شان نہیں۔ عدالت نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح احکامات جاری کیے کہ لاپتہ افراد کی بازیابی اور عدالت کے روبرو پیشی کو فوری ممکن بنایا جائے۔
تجارتی و معاشی اثرات ملک میں سیاسی اور قانونی عدم استحکام کے براہ راست منفی اثرات تجارتی سرگرمیوں اور مارکیٹ کے اعتماد پر پڑ رہے ہیں۔ جب قانون ساز اداروں کے اراکین ہی قانونی تحفظ سے محروم دکھائی دیں تو ایسی صورتحال ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچاتی ہے۔ خیبر پختونخوا کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے سبب نئے تجارتی معاہدات تعطل کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی ریٹیلرز اور تاجر برادری تحفظ کے احساس سے محروم ہے۔ سرمایہ کار اپنے سرمائے کے انخلاء یا منصوبوں کو موخر کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے اور اشیاء کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ مستحکم قانونی ماحول کے بغیر کاروباری سرگرمیوں کا فروغ ناممکن ہو جاتا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل عدالتی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ ماورائے آئین اقدامات شہریوں کی آئینی ضمانتوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور انتظامیہ بنیادی حقوق کی فراہمی میں مکمل ناکام ہو چکی ہے۔ دوسری جانب حکومتی نمائندوں اور سرکاری وکلاء کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد سے متعلق تحقیقات جاری ہیں اور تمام متعلقہ سیکیورٹی ایجنسیوں سے رپورٹ طلب کی جا چکی ہے۔ قانونی ماہرین اور بار کونسلز نے بھی پشاور ہائیکورٹ کے ریمارکس کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طاقت کا بے جا استعمال عدلیہ کی آزادی اور نظام انصاف پر عوامی اعتماد کو متزلزل کرنے کا باعث بن رہا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گمشدہ افراد کے حوالے سے واضح عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ کیا تو توہین عدالت اور انتظامی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس معاملے کے حل کے بغیر صوبے میں سیاسی استحکام کی بحالی ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام ریاستی ادارے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کریں تاکہ نہ صرف شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے بلکہ معاشی میدان میں بھی استحکام لوٹ سکے اور منڈیوں میں سرمایہ کاری کی نئی راہیں ہموار ہو سکیں۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp