پشاور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ: سابق ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کی تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری روک دی گئی
پشاور ہائیکورٹ نے سابق ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کو تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کرنے سے روکتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پشاور ہائیکورٹ نے ایک اہم عدالتی پیش رفت میں خیبرپختونخوا اسمبلی کی سابق و غیر فعال ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کے خلاف مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس یعنی تھری ایم پی او کے تحت کسی بھی قسم کی کارروائی اور گرفتاری کو فوری طور پر روک دیا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے دائر آئینی پٹیشن پر سماعت کرتے ہوئے معزز عدالت عالیہ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو واضح ہدایات جاری کیں کہ بغیر ٹھوس شواہد اور مجاز قانونی فورم کی اجازت کے تادیبی قدم نہ اٹھایا جائے۔ عدالت نے اس ضمن میں صوبائی داخلہ امور، پولیس کے اعلیٰ حکام اور ضلعی انتظامیہ کو نوٹسز جاری کر کے ریکارڈ طلب کیا ہے۔ کیس کے پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو حالیہ سیاسی بے یقینی اور خطے میں پیدا شدہ تناؤ کے دوران اپوزیشن اور مقتدر حلقوں کے درمیان شدید قانونی جنگ جاری ہے، جس کے تحت متعدد سیاسی رہنماؤں کے خلاف نقضِ امن کے قوانین کا اطلاق کیا جا رہا تھا۔
تجارتی و معاشی اثرات خیبرپختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور اعلیٰ آئینی عہدیداران کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا براہِ راست اثر صوبائی معیشت اور تجارتی سرگرمیوں پر مرتب ہوتا ہے۔ پشاور سمیت صوبے کے تمام بڑے تجارتی مراکز میں غیر یقینی سیاسی حالات کی وجہ سے سرمایہ کاروں اور ہول سیل ڈیلرز کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، جس سے مارکیٹ میں اشیائے خورونوش اور صنعتی خام مال کی ترسیل متاثر ہوتی ہے۔ جب انتظامی مشینری امن و امان کے نام پر سیاسی بنیادوں پر سرگرم رہتی ہے تو انتظامی توجہ تجارتی سہولیات کی فراہمی، اسمگلنگ کی روک تھام اور قیمتوں کے کنٹرول جیسے بنیادی فرائض سے ہٹ جاتی ہے۔ مقامی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے آئین کی پاسداری کا عمل اگرچہ تجارتی منڈیوں میں وقتی ٹھہراؤ کا باعث بنتا ہے، تاہم پائیدار صنعتی اور کاروباری ترقی کے لیے مستقل سیاسی استحکام اور قانونی شفافیت کا قیام ناگزیر ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل عدالتی کارروائی کے دوران ثریا بی بی کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی مؤکل ایک عوامی نمائندہ ہیں جن کے خلاف انتظامی قوانین کا من مانا اور انتقامی استعمال کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد محض سیاسی دباؤ بڑھانا ہے۔ دفاعی فریق کا کہنا تھا کہ تھری ایم پی او کا قانون عوامی تحفظ کے لیے ہے نہ کہ سیاسی مخالفین کی آواز دبانے کے لیے۔ دوسری جانب سرکاری وکلا نے یہ مؤقف پیش کیا کہ انتظامیہ امن و امان کے تحفظ اور نقصِ امن کے اندیشوں کو ختم کرنے کے لیے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اقدامات کرتی ہے اور کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا جا رہا۔ سیاسی حلقوں اور وکلا برادری نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کو آئینی حقوق اور بنیادی شخصی آزادیوں کی فتح قرار دیا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں اس کیس کی باقاعدہ سماعت کے دوران صوبائی حکومت کے پیش کردہ شواہد کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر حکومت عدالت میں نقصِ امن کے ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکی تو تھری ایم پی او کے تحت جاری کردہ احکامات کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیے جانے کا قوی امکان ہے۔ اس عدالتی فیصلے سے دیگر سیاسی رہنماؤں کے لیے بھی ایک مضبوط قانونی نظیر قائم ہو گئی ہے جو انتقامی گرفتاریوں کے خوف سے دوچار تھے۔ مستقبل میں یہ عدالتی قدغن انتظامیہ کو سیاسی معاملات میں احتیاط برتنے پر مجبور کرے گی جس سے خطے میں عمومی سیاسی و معاشی فضا معمول پر آ سکتی ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp