پاکستان کے معدنی وسائل میں عالمی طاقتوں کی دلچسپی، امریکا کو کوئی کان یا ٹھیکا دینے کی تردید
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ملکی معدنیات میں عالمی طاقتوں کو دلچسپی ہے، تاہم امریکا کو کوئی کان یا ٹھیکا دینے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان کے قدرتی اور معدنی وسائل کے حوالے سے حالیہ دنوں میں بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی دلچسپی کے تناظر میں وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے ملکی پالیسی اور موجودہ صورتحال پر اہم وضاحت پیش کی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں بیان کیا ہے کہ امریکا، چین اور کینیڈا جیسی بڑی عالمی معیشتیں پاکستان کے معدنی شعبے، بالخصوص ریکوڈک اور خیبر پختونخوا و بلوچستان کے دیگر ذخائر میں سرمایہ کاری کی خواہاں ہیں، تاہم ابھی تک کسی بھی امریکی کمپنی کو کوئی کان یا تجارتی ٹھیکا الاٹ نہیں کیا گیا ہے۔ میڈیا اور عوامی حلقوں میں اس حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں کی نفی کرتے ہوئے حکومتی سطح پر یہ باور کرایا گیا ہے کہ ملکی وسائل کے انتظام اور بین الاقوامی شراکت داری کے تمام فیصلے شفافیت اور قومی مفاد کو اولین ترجیح دے کر کیے جا رہے ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کے غیر استعمال شدہ معدنی ذخائر کا حجم کھربوں ڈالر پر محیط ہے۔ ریکوڈک، تھر کول اور سیندک جیسے عظیم الشان منصوبے ملکی برآمدات اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں انقلابی اضافہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عالمی سرمایہ کاروں کی مسابقتی شمولیت پاکستان کی معاشی خود انحصاری کے لیے ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔ اگر حکومت چین اور کینیڈا کے علاوہ امریکا اور یورپی یونین کو اس شعبے میں منصفانہ شراکت داری کی ترغیب دینے میں کامیاب رہتی ہے تو اس سے بھاری غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں آئے گی، جس کے نتیجے میں مقامی صنعت، ویلیو ایڈیشن ریٹیل چینز اور پسماندہ علاقوں میں روزگار کے بے پناہ مواقع پیدا ہوں گے۔ معاشی منڈیوں پر اس کے مثبت اثرات سے روپے کی قدر کو سہارا ملنے اور صنعتی نمو تیز ہونے کی قوی امید ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل وفاقی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ حکومت کسی ایک ملک پر کلی انحصار کرنے کے بجائے متوازن خارجی و تجارتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے پلیٹ فارم سے کان کنی اور توانائی کے شعبوں کے لیے یکساں اور سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے۔ تاجر برادری اور ملکی معاشی تجزیہ نگاروں نے اس حکومتی وضاحت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری کے معاہدوں میں صوبائی خودمختاری، ماحولیاتی تحفظ اور مقامی آبادی کے معاشی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جانا چاہیے۔ کاروباری حلقوں نے شفاف ٹینڈرنگ کے طریقہ کار کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے تاکہ مستقبل میں بین الاقوامی سطح پر قانونی تنازعات سے بچا جا سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ عرصے میں پاکستان کی معدنی معیشت کا محور بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنسوں اور باہمی اسٹریٹجک معاہدوں پر مرکوز رہنے کا امکان ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ خام معدنیات کی برآمد کے بجائے ملک کے اندر ریفائننگ اور پروسیسنگ پلانٹس قائم کیے جائیں تاکہ ملکی معیشت کو زیادہ سے زیادہ ویلیو ایڈیشن کا فائدہ حاصل ہو سکے۔ چین کی ترجیحی سرمایہ کاری اور مغربی کمپنیوں کی ٹیکنالوجی کو یکجا کرنے کی متوازن پالیسی پر عملدرآمد جاری رہنے کی توقع ہے، جس کے ذریعے معدنی کان کنی ملکی معاشی بحالی کے ایک کلیدی انجن کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp