سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کی بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست، صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا خدشہ
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی مہنگی کرنے کے لیے نیپرا سے رجوع کیا ہے، جس سے صارفین اور معیشت پر شدید اثرات مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے باضابطہ درخواست دائر کر دی ہے۔ یہ درخواست ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے طریقہ کار کے تحت جمع کرائی گئی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بجلی کی پیداوار کے دوران درپیش ایندھن کے اخراجات، درآمدی کوئلے، ایل این جی اور فرنس آئل کے بین الاقوامی ریٹس میں اتار چڑھاؤ کے باعث پیداواری لاگت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نیپرا اس درخواست پر عوامی سماعت کے بعد اپنا فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی بجلی کے بلوں میں اس کا اطلاق ممکن ہو سکے گا۔ یاد رہے کہ گزشتہ چند سالوں سے پاور سیکٹر میں گردشی قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم اور ترسیلی نقصانات کو کم کرنے کے لیے صارفین پر مسلسل ٹیرف کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات بجلی کے نرخوں میں مجوزہ اضافے کے براہ راست اثرات ملکی معیشت، صنعتی پیداوار اور ریٹیل سیکٹر پر شدید انداز میں مرتب ہوں گے۔ پاکستان میں مینوفیکچرنگ لاگت پہلے ہی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں بلند ترین سطح پر ہے، اور توانائی کے نرخوں میں مزید اضافے سے ٹیکسٹائل، اسٹیل اور چھوٹی و درمیانی صنعتوں کی عالمی مسابقت شدید متاثر ہوگی۔ دوسری جانب عام صارفین کی قوتِ خرید پہلے ہی افراطِ زر کے دباؤ کی وجہ سے کم ہو چکی ہے، اور یوٹیلیٹی بلز میں مسلسل اضافے سے گھریلو بجٹ کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی لامحالہ اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔ کاروباری مراکز اور ہول سیل مارکیٹوں میں آپریٹنگ اخراجات بڑھنے سے کاروباری نمو کی رفتار سست ہونے کا خدشہ ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل سی پی پی اے کے حکام کے مطابق فیول ایڈجسٹمنٹ کا نظام اصل پیداواری لاگت کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے تاکہ پاور پروڈیوسرز کو ادائیگیوں کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے اور گردشی قرضوں کے بہاؤ کو کنٹرول کیا جا سکے۔ دوسری جانب، تاجر تنظیموں اور صنعت کاروں نے اس فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) اور مختلف صنعتی ایسوسی ایشنز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کے بنیادی ٹیرف اور فیول ایڈجسٹمنٹس کے فارمولے پر نظر ثانی کی جائے۔ تاجر نمائندوں کا کہنا ہے کہ بجلی مہنگی کرنے کے بجائے لائن لاسز، بجلی چوری اور نااہل پاور پلانٹس کے مسائل حل کیے جائیں۔ عوامی سطح پر بھی بلوں کے بوجھ پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ نیپرا کی جانب سے مقررہ تاریخ پر سی پی پی اے کی ڈیٹا رپورٹس کی جانچ پڑتال کی جائے گی، جس کے بعد حتمی اضافے کی منظوری کا امکان ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کی شرائط کے تحت سبسڈیز کے خاتمے اور گردشی قرضے کو قابو کرنے کی یہی پالیسی برقرار رہی تو آئندہ مہینوں میں بھی ٹیرف میں تسلسل کے ساتھ ردوبدل دیکھنے میں آتا رہے گا۔ حکومت کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ متبادل توانائی اور سستی ہائیڈل پاور کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر گرڈ سسٹم کا حصہ بنائے، بصورت دیگر بجلی کی طلب میں کمی اور صنعتوں کی بندش سے مجموعی ملکی معیشت کو طویل مدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp