Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

پاکستان کے چین اور امریکا دونوں کے ساتھ متوازن معاشی روابط ناگزیر ہیں: وزیرِ خزانہ

وفاقی وزیرِ خزانہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان چین اور امریکا کے ساتھ متوازن معاشی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے قومی معاشی خودمختاری کو یقینی بنانے کی حکمتِ عملی پر گامزن ہے۔

پاکستان کے چین اور امریکا دونوں کے ساتھ متوازن معاشی روابط ناگزیر ہیں: وزیرِ خزانہ

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی وزیرِ خزانہ نے عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال اور ملکی مالیاتی چیلنجز کے تناظر میں ایک اہم پالیسی بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ پاکستان بیک وقت چین اور ریاستہائے متحدہ امریکا کے ساتھ اپنے سفارتی و تجارتی تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔ اسلام آباد میں معاشی امور پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ملک کسی ایک عالمی بلاک کا حصہ بننے کے بجائے جیو اکنامکس کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکز بنا چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کے چین کے ساتھ سدا بہار اسٹریٹجک تعلقات ہیں جن کا عملی ثبوت چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک ہے، جبکہ امریکا روایتی طور پر پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پلیٹ فارم پر ایک اہم کردار کا حامل رہا ہے۔ اس پس منظر میں ملکی معیشت کی بحالی کے لیے دونوں عالمی طاقتوں سے بامقصد رابطے استوار رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت قرار پایا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات اس متوازن خارجہ و معاشی حکمتِ عملی کے پاکستان کی ملکی معیشت اور مقامی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ برآمدی شعبے کے لیے امریکی منڈی ٹیکسٹائل اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی خدمات کے حوالے سے زرمبادلہ کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے، جس کے ساتھ بہتر تعلقات مقامی صنعت کاروں کے لیے استحکام کا باعث بنتے ہیں۔ دوسری جانب، صنعتی انفراسٹرکچر، توانائی کے شعبے اور ٹرانسپورٹیشن نیٹ ورک کی توسیع میں چینی سرمایہ کاری کا بنیادی کردار ہے۔ اگر حکومت دونوں طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو اس سے روپے کی قدر میں استحکام، بیرونی سرمایہ کاری میں اعتماد اور مقامی ریٹیل و ہول سیل مارکیٹ میں اشیاء کی سپلائی چین مستحکم رہنے کی امید ہے۔ اس کے نتیجے میں ملکی مینوفیکچرنگ سیکٹر کو سستے خام مال کی فراہمی اور تیار مال کی وسیع تر برآمدی منڈیوں تک رسائی کی سہولت میسر آ سکتی ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق پاکستان اپنی اقتصادی پالیسیوں کو خود مختار خطوط پر استوار کر رہا ہے جہاں بنیادی ترجیح مالی خسارے میں کمی اور برآمدات پر مبنی نمو ہے۔ دوسری طرف، تاجر برادری اور چیمبرز آف کامرس نے وزیرِ خزانہ کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تجارتی حلقے کسی قسم کے عالمی تصادم کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ چین سے قرضوں کی ری شیڈولنگ اور امریکا کے اثر و رسوخ کے تحت کثیر جہتی مالیاتی اداروں سے فنڈنگ کا حصول ایک نازک توازن کا متقاضی ہے۔ کاروباری حلقوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس متوازن پالیسی کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے ٹھوس تجارتی معاہدوں اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے فریم ورک میں تبدیل کرے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند ماہ پاکستان کی بیرونی مالیاتی حکمتِ عملی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ بیجنگ کے ساتھ سی پیک کے دوسرے مرحلے میں زراعت اور خصوصی اقتصادی زونز پر تیزی سے پیش رفت متوقع ہے، جبکہ واشنگٹن کے ساتھ باہمی تجارتی و سرمایہ کاری فریم ورک کو فعال بنانے کی کوششیں تیز کی جائیں گی۔ اگر اسلام آباد اپنی اس غیر جانبدارانہ اور ترقی پسندانہ حکمتِ عملی پر کاربند رہتا ہے تو پاکستان نہ صرف اپنی معاشی ساکھ بحال کرنے میں کامیاب ہو جائے گا بلکہ خطے میں ایک محفوظ تجارتی گزرگاہ اور منافع بخش تجارتی مرکز کے طور پر بھی ابھر سکے گا، جو طویل المدتی بنیادوں پر ملکی معیشت کی پائیداری کا ضامن ہوگا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
پاکستان کے چین اور امریکا دونوں کے ساتھ متوازن معاشی روابط ناگزیر ہیں: وزیرِ خزانہ