خیبر پختونخوا میں سیاسی کشیدگی اور عوامی لاتعلقی: شیر افضل مروت کا بیان اور معاشی صورتحال پر اثرات
شیر افضل مروت نے خیبر پختونخوا کے عوام کی احتجاج سے لاتعلقی کو سیاسی بیانیے کی ناکامی قرار دیا ہے، جبکہ معاشی ماہرین نے صوبے میں تجارتی استحکام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل مروت نے اپنے ایک حالیہ اور دو ٹوک بیان میں کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ممکنہ ہنگامی صورتحال یا احتجاج کے تناظر میں عوام کی خاموشی دراصل ان عناصر کے چہرے پر طمانچہ ہے جو لاکھوں افراد کو سڑکوں پر لانے کا دعویٰ کرتے تھے۔ حالیہ چند ہفتوں کے دوران صوبے میں سیاسی کشیدگی اور احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے مسلسل مہم چلائی جا رہی تھی، تاہم صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت دیگر اضلاع میں عوام کی جانب سے عمومی لاتعلقی دیکھنے میں آئی ہے۔ مبصرین کے مطابق، عوامی سطح پر احتجاجی سیاست سے اس لاتعلقی کے پیچھے معاشی دباؤ، مہنگائی اور مسلسل سیاسی ہیجان سے پیدا ہونے والی بیزاری ہے۔ شیر افضل مروت کا یہ موقف پارٹی کی اندرونی صفوں میں موجود مختلف آراء اور عوامی موڈ کے بدلتے ہوئے رجحانات کی عکاسی کرتا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات خیبر پختونخوا کی معیشت گزشتہ طویل عرصے سے سیکیورٹی خدشات اور سیاسی بے یقینی کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔ سیاسی اجتماعات اور احتجاج کی کالز کے سبب مارکیٹوں میں غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے، جس کا براہ راست اثر ہول سیلرز، ریٹیلرز اور ٹرانسپورٹ سیکٹر پر پڑتا ہے۔ پشاور، مردان اور دیگر تجارتی مراکز میں تاجر برادری مسلسل ہڑتالوں اور سڑکوں کی بندش سے خوفزدہ رہتی ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر صوبے میں امن و امان اور سیاسی استحکام برقرار نہ رہا تو بین الصوبائی تجارت اور افغانستان کے ساتھ ہونے والی ٹرانزٹ ٹریڈ بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔ موجودہ مہنگائی کے دور میں دکانداروں اور صارفین دونوں کی ترجیح سیاسی احتجاج کے بجائے اپنی روزمرہ کی معاشی بقا اور اشیائے ضروریہ کی مستحکم قیمتیں ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل شیر افضل مروت کے اس بیان پر سیاسی و حکومتی حلقوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آیا ہے۔ حکومتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا کے غیور عوام انتشار اور انتشار پسندانہ سیاست کو مسترد کر چکے ہیں اور وہ صوبے میں ترقی اور قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کے بعض دیگر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عوام کی پرامن روش کو ان کی کمزوری یا بیانیے سے لاتعلقی قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ ریاستی دباؤ اور حکمت عملی کا حصہ ہے۔ تاجر تنظیموں اور چیمبر آف کامرس کے نمائندوں نے اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے تمام سیاسی قیادت سے اپیل کی ہے کہ وہ معاشی سرگرمیوں کو مفلوج ہونے سے بچانے کے لیے مذاکرات اور مفاہمت کا راستہ اختیار کریں۔
مستقبل کا منظرنامہ آنے والے دنوں میں خیبر پختونخوا کا سیاسی منظرنامہ مزید دلچسپ اور پیچیدہ رخ اختیار کر سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ عوام کی جانب سے پرتشدد یا پرہجوم احتجاج سے گریز کے بعد سیاسی جماعتوں کو اپنے بیانیے پر نظرثانی کرنا پڑے گی۔ اگر حکومت اور صوبائی قیادت کے درمیان ورکنگ ریلیشن شپ بہتر ہوتی ہے تو اس سے تجارتی مراکز میں اعتماد بحال ہوگا اور سرمایہ کاری کی راہیں کھلیں گی۔ اس کے برعکس، اگر کشیدگی برقرار رہی تو خطے کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر پائیدار حکمت عملی درکار ہوگی۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp