Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

وزیر اعظم کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعلقات اور معاشی تعاون پر تبادلہ خیال

وزیر اعظم نے ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے تعزیت کی اور دوطرفہ معاشی تعاون و تجارت کے فروغ پر زور دیا۔

وزیر اعظم کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعلقات اور معاشی تعاون پر تبادلہ خیال

اہم ترین حقائق و پس منظر وزیر اعظم پاکستان نے اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے، جس میں ذاتی تعزیت کے ساتھ ساتھ دوطرفہ تعلقات کے توسیعی امور پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے ایرانی وزیر خارجہ کی ہمشیرہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم اور افسوس کا اظہار کیا، اور مرحومہ کی مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ سفارتی حلقوں میں اس رابطے کو دونوں برادر مسلم ہمسایہ ممالک کے درمیان سیاسی اور سفارتی سطح پر قربت اور باہمی احترام کی ایک اور مضبوط کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان اور ایران کے تعلقات تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں جڑے ہیں، اور اس نوعیت کے اعلیٰ سطح کے رابطے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مزید فروغ دیتے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات اگرچہ یہ رابطہ بنیادی طور پر تعزیت کے لیے تھا، تاہم موجودہ خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال اور معاشی چیلنجز کے پیش نظر تجارت اور معیشت کے امور پر بھی غیر رسمی گفتگو ہوئی۔ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی تجارت، بالخصوص توانائی کے شعبے میں تعاون دونوں ممالک کے تجارتی حلقوں کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کلیدی تاجروں اور معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ بارڈر مارکیٹس اور براہ راست بینکنگ چینلز کی بحالی سے ملکی برآمدات کو بالخصوص بلوچستان اور سندھ کے سرحدی علاقوں میں نمایاں فروغ مل سکتا ہے۔ تاجر برادری نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے اس قسم کے اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں کو خوش آئند قرار دیا ہے، کیونکہ اس سے دونوں طرف کے ریٹیلرز اور کاروباری طبقے کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل ترجمان دفتر خارجہ اور حکومتی ذرائع کے مطابق، پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو طویل المدتی بنیادوں پر مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ ایرانی فریق نے بھی وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے تعزیت اور یکجہتی کے اس جذبے کو سراہتے ہوئے دوطرفہ تعاون کو تمام شعبوں میں آگے بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ باضابطہ اور غیر رسمی ذرائع سے رابطے جاری رکھے جائیں گے تاکہ خطے میں درپیش اقتصادی اور سیکورٹی چیلنجز کا مشترکہ لائحہ عمل کے تحت مقابلہ کیا جا سکے اور دونوں ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے دنوں میں پاکستان اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے دوروں اور تجارتی وفد کے تبادلے متوقع ہیں۔ معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے، بشمول گیس پائپ لائن منصوبے اور بجلی کی ترسیل کے معاملات پر نئے سرے سے بات چیت کا آغاز ہو سکتا ہے۔ اگر ان سفارتی کوششوں کو عملی معاشی اقدامات میں ڈھال لیا جائے تو پاکستان کی معیشت اور توانائی کے بحران کے حل میں نمایاں مدد مل سکتی ہے۔ مستقبل میں سرحدی تجارت کے فروغ کے لیے نئے کسٹمز اسٹیشنز کا قیام اور باضابطہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد دونوں ممالک کے معاشی مستقبل کے لیے سنگ میل ثابت ہوگا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
وزیر اعظم کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، دوطرفہ تعلقات اور معاشی تعاون پر تبادلہ خیال