Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

پاکستان کو نئی معیشت کیلئے تیار کرنا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے، وزیر خزانہ

وفاقی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو ایک مستحکم اور جدید معیشت کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ساختیاتی اصلاحات اور پالیسی سطح پر اقدامات ناگزیر ہیں۔

پاکستان کو نئی معیشت کیلئے تیار کرنا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے، وزیر خزانہ

اہم ترین حقائق و پس منظر اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی معاشی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کو روایتی معاشی ڈھانچے سے نکال کر ایک جدید اور خود کفیل معیشت میں تبدیل کرنا حکومت کی اولین ترجیحات کا حصہ ہے۔ موجودہ ملکی و بین الاقوامی معاشی چیلنجز کے پس منظر میں یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان کو شدید مالیاتی دباؤ، بیرونی قرضوں کے بوجھ اور بلند شرحِ تناسب کا سامنا رہا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے اب حکومتی سطح پر طویل المدتی اور پائیدار پالیسیاں مرتب کی جا رہی ہیں۔ اس پس منظر میں مالیاتی نظم و ضبط، محصولات کی وصولی میں بہتری اور غیر ضروری اخراجات میں کمی کے اقدامات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین کے مطابق، اس نوعیت کی پالیسیوں کے نفاذ سے ملکی تجارت اور منڈیوں پر براہِ راست اور گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ تاجر برادری، صنعت کاروں اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے ایک ایسا سازگار ماحول فراہم کرنے کی ضرورت ہے جو برآمدات میں اضافے کا باعث بنے۔ جب تک پیداواری لاگت بالخصوص توانائی کی قیمتوں میں توازن قائم نہیں کیا جاتا، عالمی مارکیٹ میں مسابقت مشکل ہوگی۔ تاہم، مالیاتی اصلاحات کے نفاذ سے براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) میں اضافے کی توقع کی جا سکتی ہے، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور روپیہ مستحکم ہوگا۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل کاروباری حلقوں اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے نمائندوں نے حکومتی عزائم کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ پالیسیوں کے نفاذ میں شفافیت اور تاجر برادری کی مشاورت کو یقینی بنایا جائے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ٹیکس کا دائرہ کار وسیع کرنے کے ساتھ ساتھ ٹیکس دہندگان کو سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ معیشت کا پہیہ تیزی سے چل سکے۔ دوسری جانب، اقتصادی ٹیم کا مؤقف ہے کہ معیشت کو دستاویزی شکل دینا اور ڈیجیٹلائزیشن کے عمل کو تیز کرنا ناگزیر ہے تاکہ مالیاتی بدعنوانی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند ماہ کے دوران ملکی معیشت کا مستقبل اس بات پر منحصر ہوگا کہ حکومت ان اعلانات کو عملی جامہ پہنانے میں کتنی کامیاب ہوتی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ طے پانے والے اہداف کی تکمیل اور اندرونی معاشی استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ اگر بروقت اور درست فیصلے کیے گئے تو پاکستان طویل مدتی اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے، جس سے ملک میں مہنگائی کے دباؤ میں کمی اور عام آدمی کے معیارِ زندگی میں بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
پاکستان کو نئی معیشت کیلئے تیار کرنا حکومتی ترجیحات میں شامل ہے، وزیر خزانہ