قومی معیشت کی رفتار سست: مالی سال 26-2025 کے لیے متوقع جی ڈی پی گروتھ میں کمی کر دی گئی
حکومت نے مالی سال 26-2025 کے لیے اقتصادی شرح نمو کے تخمینے پر نظرثانی کرتے ہوئے متوقع جی ڈی پی گروتھ 3.7 سے گھٹا کر 3.65 فیصد کر دی ہے، جس سے مارکیٹ میں غیریقینی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی مالیاتی منصوبہ سازوں اور معاشی ٹیم نے مالی سال 26-2025 کے لیے ملک کی مجموعی ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی گروتھ کے ہدف پر نظرثانی کرتے ہوئے اسے 3.7 فیصد سے کم کر کے 3.65 فیصد مقرر کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ تخمینہ معاشی بحالی کے سست رفتار عمل، زرعی شعبے میں پیداواری اخراجات میں اضافے اور عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے عائد کردہ سخت شرائط کے بعد سامنے آیا ہے۔ پس منظر کے اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے ادائیگیوں کے توازن اور میکرو اکنامک استحکام کے چیلنجز سے نبرد آزما ہے، جس کے تحت ترقیاتی اخراجات کو محدود کیا جا رہا ہے تاکہ مالیاتی خسارے پر قابو پایا جا سکے۔
تجارتی و معاشی اثرات ترقی کی شرح میں اس کمی کا براہ راست اثر ملکی تجارت، ہول سیل مارکیٹ اور ریٹیل سیکٹر پر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جب قومی سطح پر معاشی رفتار سست ہوتی ہے تو پیداواری لاگت، افراط زر اور روزگار کے مواقع براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ کلیار ٹریڈرز کے مطابق سپلائی چین کے دباؤ اور اشیائے ضروریہ کی منڈیوں میں خریداروں کی قوت خرید پہلے ہی محدود ہو چکی ہے، جبکہ جی ڈی پی تخمینے میں کمی سے نئے کاروباری معاہدوں اور درآمد و برآمد کی سرگرمیوں میں محتاط رویہ اختیار کیا جائے گا۔ اس اقدام کے باعث ملکی صعنتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے، جس سے مارکیٹ میں اشیاء کی دستیابی اور قیمتوں کے توازن پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی کے اہداف میں یہ ردوبدل حقائق پر مبنی ہے تاکہ غیر حقیقی تخمینوں کے بجائے معاشی استحکام کی ٹھوس بنیادوں پر آگے بڑھا جا سکے۔ سرکاری نمائندوں کے مطابق موجودہ اقدامات طویل مدتی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں اور افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لیے احتیاطی مالیاتی پالیسی اپنائی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس تاجر برادری اور معاشی ماہرین کا مؤقف ہے کہ صنعتی پہیے کو روانی دینے اور کاروباری لاگت کم کیے بغیر اقتصادی شرح نمو کو بہتر بنانا ممکن نہیں۔ چیمبرز آف کامرس اور تاجر رہنماؤں نے گیس و بجلی کے نرخوں میں کمی اور شرح سود میں مزید نرمی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کاروباری برادری اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کر سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان کی معیشت کے لیے بیرونی ادائیگیاں اور مقامی محصولات کے اہداف کا حصول انتہائی کڑا امتحان ثابت ہو گا۔ اگر زرعی شعبے میں کپاس، گندم اور چاول کی پیداوار متاثر ہوتی ہے تو جی ڈی پی کی شرح نمو پر مزید دباؤ کا خطرہ موجود رہے گا۔ اقتصادی ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ حکومت کو محض مالیاتی سختیوں پر انحصار کرنے کے بجائے برآمدات کے فروغ، توانائی کے شعبے میں ریفارمز اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو ریلیف دینے کی جانب عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے، بصورت دیگر معاشی جمود کا یہ دورانیہ طویل ہو سکتا ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp