Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

سیاسی تعطل کا خاتمہ ناگزیر: سینیٹر کامران مرتضیٰ کی حکومت کو بامقصد مذاکرات کی تجویز

جمعیت علمائے اسلام کے سینئر سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ملک میں جاری کشیدگی اور سیاسی عدم استحکام کے حل کے لیے حکومت کو باضابطہ مذاکرات کی پیشکش اور سنجیدہ مشاورت کی تجویز دی ہے۔

سیاسی تعطل کا خاتمہ ناگزیر: سینیٹر کامران مرتضیٰ کی حکومت کو بامقصد مذاکرات کی تجویز

اہم ترین حقائق و پس منظر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما اور معروف قانون دان سینیٹر کامران مرتضیٰ نے ملک میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور پارلیمانی بحران کے خاتمے کے لیے حکومت کو تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامقصد مذاکرات کا آغاز کرنے کی باضابطہ تجویز پیش کی ہے۔ حالیہ پارلیمانی اجلاسوں اور قانون سازی کے تناظر میں ملک جس سیاسی ہیجان اور تقسیم کا شکار ہے، اس نے ریاست کے کلیدی ستونوں کے مابین تعلقات میں تناؤ پیدا کر رکھا ہے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ کے مطابق ملکی معاملات کو یکطرفہ فیصلوں کے تحت چلانا ممکن نہیں رہا اور موجودہ آئینی و سیاسی بحران سے نکلنے کا واحد راستہ جمہوری انداز میں افہام و تفہیم اور سنجیدہ مکالمہ ہے۔ اس پیش رفت کو پارلیمانی حلقوں میں انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ جے یو آئی اس وقت پارلیمان میں پل کا کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات سیاسی غیریقینی کی طوالت نے ملکی معیشت، روپے کی قدر اور مالیاتی منڈیوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ معاشی ماہرین اور تاجر برادری کا خیال ہے کہ جب تک سیاسی منظرنامے پر ٹھہراؤ نہیں آئے گا، تب تک براہ راست بیرونی سرمایہ کاری اور ملکی صنعتی سرگرمیوں میں بہتری کی امید عبث ہے۔ کامران مرتضیٰ کی جانب سے دی گئی مذاکراتی تجویز اگر بارآور ثابت ہوتی ہے تو اس سے مالیاتی اداروں اور اسٹاک ایکسچینج میں اعتماد کی نئی لہر پیدا ہو سکتی ہے۔ ملک میں اشیائے خورونوش کی ترسیل، درآمدات و برآمدات کے معاہدے اور ریٹیل سیکٹر شدید دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ سرمایہ کار مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ سے خائف ہیں۔ سیاسی مصالحت کی صورت میں پالیسیوں کے تسلسل کا امکان بڑھے گا، جس سے روپے کے استحکام اور کاروباری ماحول میں بہتری متوقع ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل جے یو آئی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک کو تصادم کی سیاست سے نکالنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور ان کی جماعت ہمیشہ آئین کی بالادستی اور پارلیمانی مذاکرات کی داعی رہی ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کی طرف سے اس تجویز کا محتاط خیرمقدم کیا گیا ہے اور قانون سازی کے عمل میں اتفاق رائے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں نے اگرچہ حکومت کے رویے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، تاہم بیشتر پارلیمانی اراکین کا متفقہ مؤقف ہے کہ ذاتی و سیاسی انا کو پس پشت ڈال کر عوامی و معاشی مفاد میں مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہی دانشمندی ہے۔ تاجر تنظیموں نے بھی سیاسی قیادت سے اپیل کی ہے کہ وہ ہٹ دھرمی کے بجائے تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے راہ ہموار کریں۔

مستقبل کا منظرنامہ آنے والے چند روز ملکی سیاست کے رخ کا تعین کرنے میں انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔ اگر حکومت سینیٹر کامران مرتضیٰ کی اس تجویز کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے باضابطہ مشترکہ کمیٹی تشکیل دیتی ہے تو سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر، سیاسی محاذ آرائی کے مزید طول پکڑنے سے ملکی معیشت پر ناقابل تلافی بوجھ پڑے گا اور مہنگائی کی چکی میں پسی عوام کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگا۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ وعدوں کی تکمیل اور آئندہ بجٹ کی تیاری کے عمل کو شفاف رکھنے کے لیے بھی تمام فریقین کو ایک متفقہ سیاسی لائحہ عمل مرتب کرنا ہوگا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
سیاسی تعطل کا خاتمہ ناگزیر: سینیٹر کامران مرتضیٰ کی حکومت کو بامقصد مذاکرات کی تجویز