Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

پاکستان اور تاجکستان کے مابین قدرتی آفات سے نمٹنے اور علاقائی تعاون کے فروغ پر اتفاق

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تاجکستان کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے سلسلے میں پاکستان کے تجربات اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔

پاکستان اور تاجکستان کے مابین قدرتی آفات سے نمٹنے اور علاقائی تعاون کے فروغ پر اتفاق

اہم ترین حقائق و پس منظر نائب وزیر اعظم اور وفاقی وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی سفارتی بات چیت کے دوران تاجکستان کو قدرتی آفات سے نمٹنے کے حوالے سے پاکستان کے وسیع تجربات سے مستفید ہونے کی باضابطہ پیشکش کی ہے۔ پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں، بالخصوص تاجکستان، جغرافیائی اعتبار سے گلیشیئرز پگھلنے، سیلاب، زلزلوں اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے یکساں قدرتی خطرات کی زد میں ہیں۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ دہائیوں کے دوران بدترین سیلابوں اور زلزلوں کے بعد ریلیف، بحالی اور آفات کے خطرات کے تدارک کے نظام میں گراں قدر عملی مہارت حاصل کی ہے، جسے وہ اپنے برادر اسلامی ملک تاجکستان کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات قدرتی آفات اور موسمیاتی ناہمواری خطے کی معیشت اور باہمی تجارت کے لیے سنگین خطرہ بنتی رہی ہیں۔ پاکستان اور تاجکستان کے مابین زمینی راستوں اور تجارتی راہداریوں کو ہر سال سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بندش کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے سپلائی چین متاثر ہوتی ہے اور تجارتی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین آفات سے نمٹنے کے لیے ڈیٹا شیئرنگ اور ارلی وارننگ سسٹم کا قیام زرعی پیداوار، مال برداری اور تجارتی تحفظ کو یقینی بنائے گا۔ اس تعاون سے ریٹیلرز اور تاجر برادری کو وسطی ایشیا سے اشیائے خورونوش اور دیگر خام مال کی ترسیل میں تسلسل حاصل ہوگا، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام میں مدد ملے گی۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے زور دیا کہ پاکستان نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے جدید نظام اور پیشگی وارننگ کے طریقوں کے ذریعے تاجک حکام کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے ورکشاپس اور مشترکہ مشقیں منعقد کر سکتا ہے۔ دوسری جانب تاجک سفارتی حکام نے پاکستان کی جانب سے اس خیر سگالی کے جذبے اور تکنیکی تعاون کی پیشکش کا خیرمقدم کیا۔ سفارتی حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان کنیکٹیوٹی منصوبوں کے تحفظ میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔

مستقبل کا منظرنامہ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے تناظر میں دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان باقاعدہ یادداشت مفاہمت (ایم او یو) پر دستخط متوقع ہیں۔ اس سے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ قائم ہو سکے گا۔ طویل مدتی بنیادوں پر یہ اشتراک ناصرف علاقائی سلامتی اور معاشی استحکام کو تقویت دے گا بلکہ کاسا-1000 اور دیگر مشترکہ توانائی و تجارتی منصوبوں کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے گا، جس سے خطے کے عوام اور معیشت دونوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
پاکستان اور تاجکستان کے مابین قدرتی آفات سے نمٹنے اور علاقائی تعاون کے فروغ پر اتفاق