پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے باوجود کیش پر عوامی انحصار کی وجوہات
پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے رجحان کے باوجود روایتی کیش کا غلبہ بدستور برقرار ہے جس کی بڑی وجوہات ٹیکس کا خوف اور عدم اعتماد ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر
پاکستان میں مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور غیر دستاویزی معیشت کو رسمی دائرہ کار میں لانے کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو مسلسل فروغ دیا جا رہا ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کو کیش لیس معیشت کی جانب گامزن کرنے کے لیے کی جانے والی کوششوں اور اس ضمن میں معاشی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے 'راست' نظام اور نجی فن ٹیک کمپنیوں کے ذریعے موبائل والٹس کے استعمال میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ملکی معیشت میں اب بھی نقد رقم یعنی کیش کا راج برقرار ہے۔ روزمرہ کی لین دین سے لے کر ہول سیل منڈیوں تک، عام شہری اور تاجر نقدی ہی میں لین دین کو اولین ترجیح دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں ڈیجیٹل نظام کا دائرہ کار توقعات کے مطابق وسیع نہیں ہو سکا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات
تجارتی اور معاشی سطح پر کیش کے غیر معمولی حجم نے ملکی معیشت کو متعدد چیلنجز سے دوچار کر رکھا ہے۔ زرعی اجناس کی تجارت، غلہ منڈیوں اور پرچون کاروبار میں 80 فیصد سے زائد مالی لین دین بغیر کسی دستاویزی ثبوت کے نقدی کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ اگرچہ ڈیجیٹل ادائیگیاں کاروباری لاگت اور وقت کی بچت کا مؤثر ذریعہ ہیں، لیکن عام ریٹیلرز پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینوں اور موبائل ایپلیکیشنز کے استعمال سے گریزاں ہیں۔ تاجروں کے مطابق ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کے ذریعے ان کا منافع براہِ راست فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی نظر میں آ جاتا ہے، جس پر متعدد ودہولڈنگ ٹیکسز اور سروس چارجز عائد ہوتے ہیں۔ اس رحجان نے نہ صرف بینکنگ چینلز میں جمع شدہ سرمائے کی رفتار کو سست کیا ہے بلکہ معیشت کے غیر دستاویزی حجم میں بھی کمی واقع نہیں ہونے دی۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل
حکومتی حلقوں اور سٹیٹ بینک کا مؤقف ہے کہ معاشی استحکام اور کرپشن کی روک تھام کے لیے شفاف ڈیجیٹل نظام ناگزیر ہے اور 'راست' جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے بغیر کسی فیس کے فوری رقوم کی منتقلی کو ممکن بنایا گیا ہے۔ اس کے برعکس آل پاکستان انجمن تاجران اور دیگر تجارتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ تاجر برادری ٹیکنالوجی کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہ اس ضمن میں عائد کیے جانے والے پیچیدہ ٹیکس قوانین اور بینکوں کی جانب سے کٹوتیوں پر تحفظات رکھتی ہے۔ تاجروں کا مؤقف ہے کہ جب تک نجی بینکوں کے نظام پر اعتماد بحال نہیں ہوتا اور چھوٹے کاروباری افراد کو ہراساں کیے جانے کا خوف ختم نہیں کیا جاتا، تب تک ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہونا ان کے منافع کو نقصان پہنچائے گا۔
مستقبل کا منظرنامہ
مستقبل میں پاکستان کو مکمل طور پر کیش لیس معیشت میں تبدیل کرنے کے لیے محض احکامات جاری کرنا کافی نہیں ہوگا۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق حکومت کو تاجروں کے لیے مراعاتی پیکیجز، آسان ٹیکس گوشوارے اور آن لائن فراڈ کی روک تھام کے لیے سخت سائبر سیکیورٹی قوانین نافذ کرنا ہوں گے۔ جب تک شہری اور دیہی علاقوں کے عام خریداروں کو یہ یقین دہانی نہیں کروائی جاتی کہ ان کی جمع پونجی ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں محفوظ ہے اور اس پر بلاوجہ ٹیکس کٹوتیاں نہیں ہوں گی، تب تک نقدی پر انحصار ختم کرنا ایک خواب ہی رہے گا۔ آنے والے برسوں میں معاشی پالیسیوں کی کامیابی کا دارومدار ڈیجیٹلائزیشن پر اعتماد سازی کی رفتار پر ہوگا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.