ملک کے چار بڑے ہوائی اڈوں پر ایوی ایشن سیکیورٹی کی اپ گریڈیشن کے لیے بارہ ارب روپے کا منصوبہ منظور
حکومتِ پاکستان نے چار بڑے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 12 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی فلائٹس کی بحالی ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی اور وزارت ہوابازی نے ملک کے چار اہم بین الاقوامی ہوائی اڈوں کی سیکیورٹی کو عالمی معیار سے ہم آہنگ کرنے کے لیے بارہ ارب روپے سے زائد مالیت کے ایک جامع منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے دائرہ کار میں کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور کے ہوائی اڈے شامل ہیں۔ ان تمام ائیرپورٹس پر جدید ترین ہولڈ بیگیج اسکیننگ سسٹمز، باڈی اسکینرز، دھماکا خیز مواد کا سراغ لگانے والے ڈیٹیکٹرز اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سرویلنس کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ یہ منصوبہ بین الاقوامی ایوی ایشن تنظیموں خصوصاً یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ایاسا) اور انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (آئی سی اے او) کی سیکیورٹی سفارشات کے عین مطابق ترتیب دیا گیا ہے تاکہ برسوں سے درپیش سیکیورٹی آڈٹ کے خدشات کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے۔
تجارتی و معاشی اثرات معاشی اور تجارتی نقطہ نظر سے ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے میں یہ سرمایہ کاری ملکی معیشت کے لیے دور رس نتائج کی حامل ثابت ہو سکتی ہے۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) اور نجی فضائی کمپنیوں کے لیے یورپی اور امریکی فضائی حدود کے دروازے دوبارہ کھلنے سے اربوں روپے کے ریونیو کا اضافہ ممکن ہو سکے گا۔ کارگو ترسیل اور لاجسٹکس کے شعبے کو براہ راست فائدہ پہنچے گا، جس سے ملکی برآمدات، بالخصوص ٹیکسٹائل اور حلال گوشت کی بیرون ملک سپلائی کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔ اس کے علاوہ ملکی ایئرپورٹس پر سیکیورٹی کلیئرنس کے عمل میں تیزی آنے سے مسافروں اور کاروباری وفود کی آمد و رفت میں اضافہ ہوگا، جو پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور سیاحت کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل ہوابازی کے شعبے کے ماہرین اور کاروباری حلقوں نے حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایوی ایشن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماضی میں حفاظتی معیارات کی کمزوریوں کے باعث قومی ایئرلائن کو غیر معمولی مالی نقصان اٹھانا پڑا، اور اب یہ 12 ارب روپے کا منصوبہ ملکی ہوا بازی کی ساکھ بحال کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ تاجر تنظیموں اور درآمد کنندگان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ منصوبے کی شفاف اور بروقت تکمیل کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ٹیکس دہندگان کے وسائل کا درست استعمال ممکن ہو۔ دوسری جانب سول ایوی ایشن حکام کا مؤقف ہے کہ سیکیورٹی آلات کی تنصیب کے تمام مراحل بین الاقوامی نگران اداروں کی براہ راست مشاورت سے طے کیے جا رہے ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ منصوبے کی مرحلہ وار تکمیل سے اگلے مالی سال کے اختتام تک پاکستان کے ہوائی اڈے جدید ڈیجیٹل اسکریننگ سے آراستہ ہو جائیں گے۔ اس اہم پیش رفت کے بعد عالمی اداروں کے باضابطہ آڈٹ متوقع ہیں، جن کے مثبت نتائج کی صورت میں مغربی ممالک کی نامور ایئرلائنز پاکستان کے لیے اپنی پروازیں دوبارہ شروع کر سکتی ہیں۔ سیکیورٹی انفراسٹرکچر کی یہ جامع اپ گریڈیشن نہ صرف پاکستان کو علاقائی ٹرانزٹ ہب بنانے کی بنیاد رکھے گی بلکہ ملکی برآمدی لاجسٹکس کو بین الاقوامی معیار کے مطابق مستحکم کرنے میں بھی اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp