Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

پشاور میں اسکول کی خستہ حال عمارت کا انکشاف، تکنیکی رپورٹ کمشنر کو ارسال

پشاور میں ایک سرکاری اسکول کی عمارت کے ساختی ڈھانچے کو کمزور قرار دیتے ہوئے تفصیلی رپورٹ کمشنر پشاور کو ارسال کر دی گئی ہے، جس میں فوری اصلاحی اقدامات کی سفارش کی گئی ہے۔

پشاور میں اسکول کی خستہ حال عمارت کا انکشاف، تکنیکی رپورٹ کمشنر کو ارسال

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں سرکاری اسکول کی عمارت کے غیر محفوظ اور کمزور ساختی ڈھانچے کے حوالے سے ایک تفصیلی تکنیکی رپورٹ کمشنر پشاور کو باضابطہ طور پر ارسال کر دی گئی ہے۔ متعلقہ شعبہ جاتی ماہرین اور تعمیراتی انجینئرز کی جانب سے کیے گئے تفصیلی جائزے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ عمارت بنیادوں اور ستونوں کے لحاظ سے شدید خستہ حالی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے یہ کسی بھی ناگہانی آفت یا زلزلے کی صورت میں بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ تدریسی عمل کے دوران سیکڑوں معصوم بچوں اور اساتذہ کی زندگیوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر عمارت کا موجودہ ڈھانچہ قابل استعمال نہیں رہا۔ انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے متبادل انتظامات کیے جائیں تاکہ تدریسی سرگرمیاں بھی متاثر نہ ہوں اور جانی تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے۔

تجارتی و معاشی اثرات سرکاری عمارات، خصوصاً تعلیمی اداروں کے انفراسٹرکچر کی مرمت اور بحالی ملکی معیشت اور مقامی تعمیراتی شعبے سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ اسکول کے ڈھانچے کی بحالی یا ازسرنو تعمیر کے لیے فوری طور پر صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام سے فنڈز کا اجرا ناگزیر ہوگا۔ اگر حکومت نئی عمارت کی منظوری دیتی ہے تو اس سے سیمنٹ، سریا، ریت اور اینٹوں سمیت مقامی تعمیراتی مٹیریل کی مارکیٹ میں سرگرمی پیدا ہوگی اور دیہاڑی دار مزدوروں کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ تاہم دوسری جانب تعلیمی سہولیات کے تعطل یا متبادل نجی جگہ کے کرائے پر حصول کی صورت میں پبلک فنڈز پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ اگر متبادل انتظامات بروقت نہ کیے گئے تو آس پاس کے تجارتی مراکز اور ریٹیل کے وہ کاروبار جو اسکول کے عملے اور طلبا پر منحصر ہیں، عارضی مندی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل شعبہ تعلیم اور ضلعی انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے اور کسی بھی انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ماہرین نے سفارش کی ہے کہ اسکول کے مخدوش حصوں کو فوری طور پر خالی کرایا جائے اور تدریسی عمل کو قریبی کسی دوسرے سرکاری ادارے یا کرائے کی عمارت میں عارضی طور پر منتقل کیا جائے۔ دوسری جانب والدین اور شہری نمائندوں نے اس معاملے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رسمی خط و کتابت کی بجائے ہنگامی بنیادوں پر فنڈز فراہم کیے جائیں تاکہ اسکول کی محفوظ عمارت کا قیام بلا تاخیر ممکن ہو سکے۔

مستقبل کا منظرنامہ کمشنر پشاور کی جانب سے رپورٹ کا جائزہ لیے جانے کے بعد توقع ہے کہ اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جائے گا جس میں فنڈز کے فوری اجرا اور عمارت کی بحالی کا حتمی پلان مرتب کیا جائے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس واقعے کے بعد پشاور سمیت صوبے بھر کے دیگر پرانے تعلیمی اداروں کا سیفٹی آڈٹ بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔ آئندہ چند روز کے دوران ضلعی انتظامیہ متبادل انتظام کے تحت طلبا کی کلاسوں کی منتقلی کے احکامات جاری کر سکتی ہے، جس سے نہ صرف حادثات کا سدباب ہوگا بلکہ مستقل بنیادوں پر معیاری انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے بھی اقدامات آگے بڑھیں گے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
پشاور میں اسکول کی خستہ حال عمارت کا انکشاف، تکنیکی رپورٹ کمشنر کو ارسال