Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

افغان عبوری حکومت دہشت گردی کے ٹھوس شواہد کا جواب دے، وزارت اطلاعات و نشریات کا دوٹوک مطالبہ

وفاقی وزارت اطلاعات نے افغان عبوری حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ زبانی بیانات کے بجائے سرحد پار دہشت گردی کے ٹھوس شواہد کا باضابطہ جواب دے اور عسکریت پسندوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرے۔

افغان عبوری حکومت دہشت گردی کے ٹھوس شواہد کا جواب دے، وزارت اطلاعات و نشریات کا دوٹوک مطالبہ

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات نے کابل کی عبوری انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ سرحد پار دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ ٹھوس شواہد کا سنجیدگی سے جواب دے اور بے بنیاد بیان بازی سے گریز کرے۔ پاکستان طویل عرصے سے اس امر کی نشاندہی کرتا رہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر عسکریت پسند گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف تخریب کاری کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اسلام آباد نے متعدد سفارتی اور عسکری ذرائع سے افغان حکام کو ٹھوس دستاویزات اور شواہد پیش کیے ہیں، جن میں افغانستان کے اندر قائم تربیتی کیمپوں، مالی معاونت کے نیٹ ورکس اور سرحد پار دراندازی کے تفصیلی ثبوت شامل ہیں۔ وزارت اطلاعات کے مطابق خطے میں پائیدار امن اسی صورت ممکن ہے جب کابل انتظامیہ بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔

تجارتی و معاشی اثرات پاکستان اور افغانستان کے مابین بڑھتی ہوئی سکیورٹی کشیدگی کے براہ راست اثرات دوطرفہ تجارت، ٹرانزٹ ٹریڈ اور مقامی معیشت پر مرتب ہو رہے ہیں۔ طورخم اور چمن سمیت اہم تجارتی گزرگاہوں پر سکیورٹی خدشات کے باعث کانوائے کی آمد و رفت متاثر ہونے سے مال بردار گاڑیوں کی طویل قطاریں معمول بن چکی ہیں، جس کے نتیجے میں برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو بھاری ڈیمریج چارجز کا سامنا ہے۔ کلیار ٹریڈرز کے تجارتی تجزیے کے مطابق، سرحد پار تجارتی تعطل سے پھلوں، سبزیوں، ادویات اور سیمنٹ کی ترسیل میں تاخیر ہو رہی ہے جس سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی مقامی مارکیٹوں میں قیمتوں کا عدم استحکام جنم لے رہا ہے۔ مزید برآں، غیر یقینی سکیورٹی صورتحال نے وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی کے منصوبوں پر بھی سوالیہ نشان لگا دیے ہیں، جس کے نتیجے میں علاقائی سپلائی چینز شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ریاستی سالمیت اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور شواہد کی موجودگی میں محض علامتی تسلیوں کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ دفتر خارجہ اور سکیورٹی اداروں نے متعدد بار کابل کو مطلع کیا ہے کہ عسکریت پسند عناصر کے خلاف بے لاگ کارروائی دونوں ممالک کے طویل مدتی مفاد میں ہے۔ دوسری جانب، افغان عبوری حکومت عمومی طور پر ایسے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے، تاہم اسلام آباد کے مطابق حقائق کو نظرانداز کرنے سے زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہوگی۔ تاجر برادری نے دونوں ممالک کے ذمہ داران سے اپیل کی ہے کہ وہ انٹیلی جنس تعاون اور ادارہ جاتی روابط کو فعال بنائیں تاکہ تاجروں اور عام شہریوں کا نقصان روکا جا سکے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں پاک افغان تعلقات میں سکیورٹی اور سفارتی دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اگر افغان عبوری حکومت نے عسکریت پسند نیٹ ورکس کے خلاف ٹھوس اور قابل تصدیق اقدامات نہ کیے تو پاکستان کی جانب سے سرحد پار نقل و حرکت اور ویزا پالیسیوں میں مزید سختی متوقع ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق طویل مدتی سکیورٹی بحران نہ صرف دوطرفہ سالانہ تجارتی حجم کو محدود کر دے گا بلکہ خطے میں بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات کو بھی متاثر کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کابل انتظامیہ شواہد پر مبنی مذاکرات کو ترجیح دے کر خطے کے وسیع تر امن و امان اور معاشی استحکام کی راہ ہموار کرے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
افغان عبوری حکومت دہشت گردی کے ٹھوس شواہد کا جواب دے، وزارت اطلاعات و نشریات کا دوٹوک مطالبہ