Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

سرمایہ کاروں کو بے جا ہراسانی سے تحفظ دینے کے لیے نیب کا خصوصی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ

قومی احتساب بیورو نے سرمایہ کاروں کو ہراسانی سے بچانے اور کاروباری اعتماد بحال کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے تاکہ معاشی سرگرمیاں متاثر نہ ہوں۔

سرمایہ کاروں کو بے جا ہراسانی سے تحفظ دینے کے لیے نیب کا خصوصی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ

اہم ترین حقائق و پس منظر قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملکی معیشت کی بحالی اور کاروباری برادری کے دیرینہ تحفظات کو دور کرنے کے لیے ایک اہم پالیسی اقدام کے تحت سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے ایک بااختیار خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ ماضی میں تاجر اور صنعت کار برادری کی جانب سے یہ شکایت مسلسل سامنے آتی رہی ہے کہ احتسابی عمل میں طریقہ کار کی غلطیوں یا انتظامی فیصلوں پر غیر ضروری مداخلت اور ہراسانی کی وجہ سے سرمایہ کار خوف کا شکار ہو کر منصوبے روک دیتے ہیں۔ نیب ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق یہ کمیٹی بزنس کمیونٹی کے خلاف موصول ہونے والی شکایات کی ابتدائی جانچ پڑتال کرے گی تاکہ حقیقی سرمایہ کاروں اور جائز کاروباری سرگرمیوں کو قانونی تحفظ حاصل رہے اور بلاجواز گرفتاریوں یا طلبیوں کا سلسلہ مکمل طور پر روکا جا سکے۔

تجارتی و معاشی اثرات معاشی ماہرین کے مطابق کسی بھی ملک میں اقتصادی ترقی کا دارومدار سرمایہ کاروں کے اعتماد پر ہوتا ہے۔ نیب کی جانب سے اس نئی کمیٹی کا قیام ملکی منڈیوں، صنعتی شعبوں اور مالیاتی اداروں کے لیے مثبت پیغام ہے۔ ماضی میں بیوروکریسی اور نجی شعبے کے مابین نیب کے خوف سے فیصلے التوا کا شکار رہتے تھے جس سے ترقیاتی منصوبوں کی لاگت میں اضافہ ہوا اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری بری طرح متاثر ہوئی۔ اس اقدام کے نتیجے میں تجارتی لین دین، سرکاری و نجی اشتراک کے منصوبوں اور کارپوریٹ سیکٹر میں فیصلے تیزی سے ہو سکیں گے۔ علاوہ ازیں ریٹیلرز اور ہول سیل مارکیٹ کے تاجروں کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال کم ہوگی جس سے پیداواری عمل کو تقویت ملے گی۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل وفاقی حکام اور نیب قیادت کا مؤقف ہے کہ بدعنوانی کے خاتمے اور اقتصادی استحکام کے مقاصد ایک دوسرے سے متصادم نہیں ہیں۔ نیب کے ترجمان کے مطابق احتساب کے ادارے کا کام معاشی سرگرمیوں کو منجمد کرنا نہیں بلکہ شفافیت کو یقینی بنانا ہے، اور نئی کمیٹی تاجر برادری کی شکایات کے ازالے کے لیے پل کا کردار ادا کرے گی۔ دوسری جانب فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور مختلف صنعتی تنظیموں نے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کاروباری معاملات کو فوجداری قوانین کے تحت دیکھنے کے بجائے سول و کارپوریٹ قوانین کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور نیب کو صرف ٹھوس شواہد اور میگا کرپشن اسکینڈلز تک ہی محدود رہنا چاہیے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں اس کمیٹی کے باقاعدہ فریم ورک اور ضابطہ اخلاق کی تشکیل کی پیش رفت متوقع ہے، جس میں تاجر نمائندوں کو بھی مشاورت میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اگر کمیٹی نے آزادانہ اور مؤثر انداز میں کام کیا تو ملکی معیشت میں جمود کا خاتمہ ہوگا اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے مقاصد کو بھی خاطر خواہ مدد ملے گی۔ تاہم اس حکمت عملی کی حقیقی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ احتسابی ادارے نچلی سطح پر سرمایہ کاروں کے ساتھ کس حد تک نرم اور شفاف رویہ اختیار کرتے ہیں تاکہ مستقبل میں قانونی تنازعات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
سرمایہ کاروں کو بے جا ہراسانی سے تحفظ دینے کے لیے نیب کا خصوصی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ