حکومت نے مذاکرات کے تمام دروازے بند کر دیے ہیں: مولانا فضل الرحمان کا سخت موقف
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی رویے نے سیاسی مذاکرات کی تمام گنجائش ختم کر دی ہے جس کے ملکی معیشت پر بھی منفی اثرات پڑ رہے ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر حالیہ سیاسی منظر نامے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ حکومت نے سیاسی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی ہے۔ ملک میں جاری سیاسی چپقلش نے ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کی ہے جب ریاست کو اندرونی اور بیرونی محاذوں پر سنگین چالش درپیش ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اور سرد مہری نے جمہوری عمل کو کمزور کیا ہے، جس کے براہ راست اثرات ملکی نظم و نسق پر پڑ رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مختلف سیاسی جماعتیں آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھی ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات کسی بھی ملک میں سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ سیاسی کشیدگی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث کاروباری برادری شدید تشویش میں مبتلا ہے۔ سرمایہ کار طویل المدتی منصوبوں سے گریزاں ہیں کیونکہ پالیسیوں میں تسلسل کا فقدان نظر آتا ہے۔ منڈیوں میں مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے اور افراط زر کے دباؤ کے ساتھ ساتھ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ریٹیلرز اور چھوٹے تاجروں کا کہنا ہے کہ سیاسی دنگل کی وجہ سے عام صارف کی قوتِ خرید متاثر ہو رہی ہے، جس سے مجموعی معاشی سرگرمیاں سست پڑ چکی ہیں۔ بیرونی سرمایہ کاری بھی اس فضائی غیر یقینی کی نذر ہو رہی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر سیاسی حلقوں میں گرما گرم بحث شروع ہو گئی ہے۔ ایک طرف اپوزیشن جماعتیں حکومتی ہٹ دھرمی کو ملکی زبوں حال معیشت اور بحرانوں کی ذمہ دار قرار دے رہی ہیں، تو دوسری طرف حکومتی ترجمانوں کا موقف ہے کہ اپوزیشن اپنے ذاتی مفادات کے لیے سیاسی دباؤ بڑھا رہی ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا اصرار ہے کہ قانون کی بالادستی اور معاشی اصلاحات کا عمل ہر صورت جاری رہے گا اور بلیک میلنگ کی سیاست کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ تاجر تنظیموں نے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کریں۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے دنوں میں سیاسی محاذ آرائی میں مزید تیزی آنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اگر فریقین نے لچک کا مظاہرہ نہ کیا تو تصادم کی سیاست ملک کو مزید بحرانوں میں دھکیل سکتی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ سیاسی ڈائیلاگ کے بغیر معیشت کا پہیہ رواں دواں رکھنا ناممکن ہے۔ آنے والے ہفتے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ آیا حکومت اور اپوزیشن کسی میٹھا گھونٹ بھرنے پر آمادہ ہوتے ہیں یا ملک ایک طویل سیاسی طوفان کی زد میں رہتا ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp