سیاست میں ڈیڈ اینڈ اور نو ریٹرن کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا بیان
وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے واضح کیا ہے کہ سیاست میں حتمی بند گلی یا عدم واپسی کا کوئی تصور نہیں ہوتا، اور پائیدار قومی استحکام کے لیے مکالمے کے دروازے کھلے رکھے جاتے ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے اپنے حالیہ تفصیلی بیان میں واضح کیا ہے کہ جمہوری سیاست میں کوئی بھی پالیسی حتمی بند گلی یا 'پوائنٹ آف نو ریٹرن' کی حامل نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق سیاسی قوتوں کے درمیان اختلافات کتنے ہی شدید کیوں نہ ہوں، بات چیت اور مکالمے کے امکانات ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی و آئینی بحران کے پس منظر میں یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع کا یہ موقف اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بند دروازے کھولنے اور سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے، کیونکہ سیاسی انتشار کے اثرات براہ راست ریاستی ڈھانچے پر مرتب ہو رہے ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات سیاسی غیریقینی صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان ملکی معیشت اور تجارتی شعبے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان کی کیپیٹل مارکیٹ، روپے کی قدر اور غیر ملکی سرمایہ کاری براہ راست داخلی سیاسی حالات سے جڑی ہوئی ہیں۔ سیاسی محاذ آرائی میں کمی کے امکانات سے کاروباری برادری اور مالیاتی منڈیوں میں ایک مثبت پیغام جاتا ہے۔ ہول سیل ڈیلرز، ریٹیلرز اور صنعتی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر سیاسی قیادت مذاکرات کی طرف پیش رفت کرے تو اس سے پالیسیوں کے تسلسل کا راستہ ہموار ہوگا، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا اور بیرونی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاملات میں ملکی پوزیشن مضبوط ہوگی، جس کے نتیجے میں عمومی معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے گی۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی حلقوں کی جانب سے اس بیان کو مفاہمت کی سنجیدہ کوشش اور سیاسی پختگی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق حکومتی اتحاد ملکی مسائل کے حل کے لیے آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام فریقین کے ساتھ رابطوں کا حامی ہے۔ دوسری جانب حزب اختلاف کی صفوں سے محتاط ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں کچھ حلقوں نے اسے محض سیاسی بیانیہ قرار دیا ہے جبکہ معتدل رہنماؤں نے اسے مثبت پیش رفت تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سنجیدہ مذاکرات کا ایجنڈا طے کیا جائے تو ملک کو غیر یقینی صورتحال سے نکالا جا سکتا ہے۔ کاروباری و صنعتی تنظیموں نے بھی سیاسی قیادت پر زور دیا ہے کہ باہمی چپقلش کو پس پشت ڈال کر معاشی ایجنڈے پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں خواجہ آصف کے اس مؤقف کے تناظر میں پس پردہ رابطوں کی رفتار میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کشیدگی کم کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں تو اس سے قانون سازی، انتخابی اصلاحات اور اہم ریاستی تقرریوں پر مشترکہ روڈ میپ بن سکتا ہے۔ بصورت دیگر سیاسی تناؤ برقرار رہنے کی صورت میں مارکیٹ کا اتار چڑھاؤ جاری رہے گا اور افراط زر پر قابو پانا دشوار تر ہو جائے گا۔ آنے والے چند ہفتے ملکی سیاسی تاریخ اور تجارتی استحکام کے حوالے سے انتہائی کلیدی حیثیت کے حامل ہوں گے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp