Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی یکجہتی ناگزیر ہے: مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور معاشی استحکام کے لیے تمام طبقات کو ایک صفحے پر آنا ہوگا۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی یکجہتی ناگزیر ہے: مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی حکومت کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ملک میں جاری سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے چیلنجز پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ناسور کے خاتمے کے لیے پورے ملک اور تمام طبقات کو ہم خیال اور یکسو ہونا پڑے گا۔ حالیہ دنوں میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں اور مختلف حساس علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کے بعد وفاقی سطح پر امن و امان کے مسئلے کو قومی سلامتی کا بنیادی ایجنڈا قرار دیا گیا ہے۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق محض عسکری یا انٹیلی جنس کارروائیاں اس وقت تک حتمی نتائج پیدا نہیں کر سکتیں جب تک کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں، سول سوسائٹی اور عوام ایک واضح اور غیر مبہم قومی بیانیے پر متفق نہ ہوں۔

تجارتی و معاشی اثرات ملکی تجارتی و مالیاتی نظام کے لیے امن و امان کی صورتحال ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ مارکیٹ تجزیہ کاروں اور معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ دہشت گردی اور غیر یقینی سیکیورٹی صورتحال کے باعث غیر ملکی سرمایہ کاری کے راستے مسدود ہوتے ہیں جبکہ مقامی کاروباری طبقہ بھی نئے منصوبوں میں پونجی لگانے سے گریزاں نظر آتا ہے۔ امن و امان کی بحالی کے بغیر سی پیک کے فیز ٹو اور خصوصی اقتصادی زونز میں سرگرمیوں کو تیز کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ ترسیلات، ٹرانسپورٹ لاگت اور درآمدی برآمدی سرگرمیوں کے انشورنس رسک پریمیم میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا حتمی بوجھ ہول سیل اور ریٹیل مارکیٹوں پر مہنگائی کی صورت میں پڑتا ہے۔ معاشی بحالی کا انحصار براہ راست سیکیورٹی کی پائیداری پر قائم ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی حلقوں کا موقف ہے کہ ریاست نے دہشت گردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اب کسی بھی نوعیت کے منفی عناصر کے لیے کوئی رعایت باقی نہیں رکھی جائے گی۔ تاجر برادری اور چیمبرز آف کامرس کے نمائندگان نے اس امر پر زور دیا ہے کہ ریاست کو معاشی مراکز اور تجارتی راہداریوں کی حفاظت کو ترجیح اول بنانا چاہیے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ دوسری جانب، سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر اس کی اصل روح کے مطابق عملدرآمد اور تمام فریقین کو اعتماد میں لینا ناگزیر ہو چکا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آنے والے دنوں میں وفاقی و صوبائی سطح پر انسداد دہشت گردی کے طریقہ کار اور مشترکہ حکمت عملی کا جائزہ لیے جانے کا امکان ہے۔ سیکیورٹی ایجنسیوں کے مابین رابطہ کاری کو مزید بہتر بنانے اور تجارتی شاہراہوں کی کڑی نگرانی کے لیے جامع فیصلے متوقع ہیں۔ اگر تمام اسٹیک ہولڈرز نے مشترکہ حکمت عملی نہ اپنائی تو خطے میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس لیے ملکی سیاسی و تجارتی قیادت کے درمیان وسیع تر مفاہمت ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی یکجہتی ناگزیر ہے: مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ