Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

سیاسی منافقت اور تضادات پر مبنی بیانیے قومی معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں: خواجہ آصف کا پارلیمانی خطاب

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں کے متضاد سیاسی بیانیے کو بے نقاب کیا اور اسے پارلیمانی اقدار کے منافی قرار دیا۔

سیاسی منافقت اور تضادات پر مبنی بیانیے قومی معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں: خواجہ آصف کا پارلیمانی خطاب

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کے دوران اپوزیشن کے بدلتے ہوئے سیاسی لب و لہجے اور تضادات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ماضی کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کل تک جو عناصر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے نام کے ساتھ مولانا کا لفظ جوڑنے کو گناہ قرار دیتے تھے، آج وہی گروہ اپنے ذاتی اور سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ان کے ساتھ اتحاد کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ وزیر دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ اس نوعیت کا دغلا پن پارلیمانی سیاست اور عوامی نمائندگی کی بنیادی اخلاقیات پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ پارلیمنٹ میں پیش آنے والے اس گرما گرم مباحثے نے ملک میں جاری سیاسی صف بندیوں اور آئینی ترامیم کے عمل میں شامل فریقین کے کردار کو نمایاں کر دیا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات ملک میں سیاسی محاذ آرائی اور تضادات پر مبنی بیانات صرف پارلیمنٹ کے ایوانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے براہ راست اثرات قومی معیشت اور مالیاتی منڈیوں پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ جب سیاسی قیادت کے درمیان بداعتمادی کی فضا گہری ہوتی ہے تو اس سے پالیسیوں کے تسلسل پر شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں اسٹاک ایکسچینج میں غیر یقینی کیفیت جنم لیتی ہے اور مقامی تاجر برادری مستقبل کی منصوبہ بندی سے گریزاں ہو جاتی ہے۔ کلیار ٹریڈرز کے تجارتی و تجزیاتی جائزے کے مطابق، طویل مدتی تجارتی معاہدوں، صنعتوں کے خام مال کی ترسیل اور مارکیٹ کے اعتماد کے لیے سیاسی استحکام اولین ضرورت ہے۔ سرمایہ کار ایسے ماحول میں سرمایہ روک لیتے ہیں جس سے منڈی میں نقدی کا بہاؤ سست پڑ جاتا ہے اور بالآخر عام صارف مہنگائی کے دباؤ کا شکار ہوتا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی بینچوں نے خواجہ آصف کے خطاب کی مکمل تائید کرتے ہوئے کہا کہ آئینی و قانونی اصلاحات کا مقصد ملکی استحکام ہے، جبکہ اپوزیشن انتشار کی سیاست کو ہوا دے رہی ہے۔ حکومتی ترجمانوں کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود شائستگی اور مستقل مزاجی کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ دوسری جانب اپوزیشن ارکان نے ان الزامات کو یکطرفہ تنقید قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ جمہوری معاشروں میں سیاسی اتحاد اور حکمت عملیاں وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور حکومت اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پرانے بیانات کا سہارا لے رہی ہے۔ اس دوران دیگر سیاسی جماعتوں نے سنجیدہ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔

مستقبل کا منظرنامہ مستقبل کے تناظر میں یہ واضح ہے کہ آنے والے ہفتے قومی سیاست اور قانون سازی کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر سیاسی کشیدگی اسی نہج پر برقرار رہی تو پارلیمانی نظام کے تحت قانون سازی کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے، جس سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ اصلاحاتی پروگراموں پر عملدرآمد بھی پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ تاہم اگر سیاسی قیادت نے دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ذاتی مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دی، تو اس سے معاشی پالیسیوں کو استحکام ملے گا اور کاروباری برادری کے اعتماد کی بحالی سے مالیاتی اشاریوں میں بہتری آئے گی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
سیاسی منافقت اور تضادات پر مبنی بیانیے قومی معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں: خواجہ آصف کا پارلیمانی خطاب