Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی کا نفاذ: عوامی آراء، سیاسی تضادات اور معاشی اثرات کا جائزہ

گیلپ پاکستان کے نئے سروے میں 47 فیصد شہریوں نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کی جبکہ 36 فیصد نے مخالفت کی، جس سے ملک میں نیا آئینی و معاشی مباحثہ چھڑ گیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی کا نفاذ: عوامی آراء، سیاسی تضادات اور معاشی اثرات کا جائزہ

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان کے معروف تحقیقاتی ادارے گیلپ پاکستان کے حالیہ عوامی سروے میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ملک کے 47 فیصد شہری خیبر پختونخوا میں موجودہ صورتحال کے پیش نظر ایمرجنسی نافذ کرنے کے حق میں ہیں، جبکہ 36 فیصد عوام نے اس اقدام کی کھلی مخالفت کی ہے۔ سروے کے نتائج بتاتے ہیں کہ 17 فیصد افراد نے اس معاملے پر کسی حتمی رائے کے اظہار سے گریز کیا۔ یہ نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب وفاق اور صوبائی حکومت کے مابین انتظامی، مالیاتی اور سیکیورٹی معاملات پر کھچاؤ تاریخی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ صوبے میں امن و امان کی نازک صورتحال، احتجاجی سیاست اور وفاقی اداروں کے ساتھ بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے عوامی حلقوں میں آئینی اختیارات کے استعمال سے متعلق سنجیدہ بحث کو جنم دیا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات خیبر پختونخوا میں کسی بھی ممکنہ غیر معمولی اقدام یا ایمرجنسی کے گہرے اثرات علاقائی تجارت اور معیشت پر مرتب ہوں گے۔ پشاور سمیت صوبے کے بڑے تجارتی مراکز میں غیر یقینی کی صورتحال نے تاجروں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ پاک افغان باہمی تجارت اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ پہلے ہی بار بار راستوں کی بندش سے متاثر ہو رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ سیاسی عدم استحکام ریٹیل مارکیٹ میں اشیائے خورونوش کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں سپلائی چین متاثر ہو کر قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ بینکنگ چینلز اور نجی شعبہ سرمایہ کاری روکنے پر مجبور ہے، جس سے صوبائی ریونیو اور روزگار کے مواقع سکڑنے کا اندیشہ ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل صوبائی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے ایمرجنسی کے کسی بھی اقدام کو غیر جمہوری اور آئین پر شب خون قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عوام نے انہیں پانچ سال کے لیے مینڈیٹ دیا ہے اور صوبائی خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب وفاقی وزراء اور اتحادی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ صوبے کے وسائل کو ریاست کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور امن عامہ برقرار رکھنے کے لیے آئین کے اندر رہتے ہوئے تمام راستے کھلے ہیں۔ تاجر برادری نے دونوں فریقین سے سیاسی محاذ آرائی ختم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ بازاروں اور صنعتی مراکز میں معمول کے معاشی سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔

مستقبل کا منظرنامہ آنے والے دن خیبر پختونخوا کی سیاسی اور آئینی تاریخ میں غیر معمولی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ سروے کے نتائج اگرچہ منقسم رائے عامہ کی عکاسی کرتے ہیں، مگر زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کسی بھی سخت آئینی اقدام کے نتیجے میں شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔ اگر وفاق اور صوبے کے مابین ورکنگ ریلیشن شپ بحال نہ ہوئی تو اقتصادی ترقی کا عمل مزید پستی میں گر سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملات کو تصادم کے بجائے افہام و تفہیم، پارلیمانی مشاورت اور قانونی حدود کے اندر حل کیا جائے تاکہ ملکی معیشت کو مزید بحرانوں سے بچایا جا سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خیبر پختونخوا میں ممکنہ ایمرجنسی کا نفاذ: عوامی آراء، سیاسی تضادات اور معاشی اثرات کا جائزہ