حیدرآباد میں آوارہ کتے کے کاٹنے سے کمسن بچہ جاں بحق، اینٹی رےبیز ویکسین کی دستیابی پر سنگین سوالات
حیدرآباد میں سگ گزیدگی کا شکار معصوم بچہ بروقت علاج اور ویکسین نہ ملنے کے باعث چل بسا، جس نے نظام صحت کی زبوں حالی اور انتظامی غفلت کو بے نقاب کر دیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر سندھ کے دوسرے بڑے صنعتی و تجارتی شہر حیدرآباد میں آوارہ کتوں کی بہتات اور انتظامی لاپروائی نے ایک اور معصوم انسانی جان نگل لی ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ تصدیقی بیان کے مطابق کتے کے کاٹنے سے شدید زخمی ہونے والا بچہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دوران علاج ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے فوری بعد بچے کو قریبی طبی مرکز منتقل کیا گیا تھا، تاہم مطلوبہ ادویات اور ماہرانہ نگہداشت میں تاخیر جان لیوا ثابت ہوئی۔ سندھ بھر میں سگ گزیدگی کے مسلسل بڑھتے ہوئے واقعات نے ایک بار پھر میونسپل اداروں اور پبلک ہیلتھ کے بنیادی ڈھانچے کے سنگین خلا کو نمایاں کر دیا ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ ایسے واقعات گہرے معاشی و کاروباری اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔ ریبیز کے خطرات اور آوارہ جانوروں کی منڈلاتی دہشت کے باعث تجارتی مراکز، ہول سیل مارکیٹوں اور رہائشی بستیوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہے۔ فارماسیوٹیکل مارکیٹ میں اینٹی رےبیز ویکسین کی سرکاری سطح پر مبینہ قلت کے سبب نجی میڈیکل اسٹورز پر بلیک مارکیٹنگ اور من مانی قیمتوں کی وصولی کا رجحان بڑھ رہا ہے، جس سے کم آمدنی والے طبقے پر شدید مالی بوجھ پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں، غیر محفوظ ماحول کے سبب مزدور طبقے اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کی نقل و حرکت محدود ہوتی ہے، جو بلاواسطہ طور پر مقامی ریٹیل کاروبار اور پیداواری صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل شہری حقوق کی تنظیموں اور تاجر رہنماؤں نے واقعے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے بلدیاتی اداروں کو معصوم جان کے ضیاع کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ عدالتی احکامات اور فنڈز کی فراہمی کے باوجود نہ تو کتا مار مہم کو جامع انداز میں چلایا جا سکا اور نہ ہی ٹی این آر (پکڑنا، خصی کرنا اور ویکسین لگانا) پروگرام پر خلوص نیت سے عمل درآمد ہوا۔ دوسری جانب محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ کیس کی محکمانہ تحقیقات جاری ہیں اور ہسپتالوں میں ہنگامی ادویات کا ذخیرہ یقینی بنانے کے احکامات جاری کیے جا رہے ہیں، تاہم شہری اس پر پرانے بیانات کے دہرائے جانے کا گلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ اس اندوہناک سانحے کے بعد صوبائی و مقامی انتظامیہ پر دباؤ میں بے پناہ اضافہ متوقع ہے۔ اگر حکومت نے فوری طور پر بنیادی مراکز صحت اور تحصیل ہسپتالوں میں بین الاقوامی معیار کی اینٹی رےبیز ویکسین کی بلا تعطل ترسیل یقینی نہ بنائی تو عوامی احتجاج میں شدت آ سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں ضروری ہو گا کہ بلدیاتی ادارے شفاف مانیٹرنگ سسٹم کے تحت آوارہ جانوروں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے پائیدار اور موثر حکمت عملی اپنائیں تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک سانحات اور معاشی و سماجی نقصانات سے بچا جا سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp