Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

کراچی میں غیر قانونی ہنڈی حوالہ نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن، دو ملزمان گرفتار

کراچی میں سیکیورٹی اداروں نے ہنڈی حوالہ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمان کو گرفتار کر کے بھاری مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد کر لی۔

کراچی میں غیر قانونی ہنڈی حوالہ نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن، دو ملزمان گرفتار

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی تحقیقاتی ادارے اور سیکیورٹی اداروں نے کراچی کے مختلف تجارتی علاقوں میں منظم چھاپہ مار کارروائیاں کرتے ہوئے غیر قانونی ہنڈی اور حوالہ نیٹ ورک سے وابستہ دو اہم ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، یہ ملزمان بغیر کسی قانونی اجازت نامے یا لائسنس کے بڑے پیمانے پر ملکی و غیر ملکی کرنسی کی ترسیل اور غیر قانونی لین دین میں ملوث تھے۔ کارروائی کے دوران حکام نے ملزمان کے قبضے سے لاکھوں روپے مالیت کی ملکی اور غیر ملکی کرنسی، موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور لین دین کا تفصیلی ریکارڈ پر مشتمل رجسٹرز برآمد کر لیے ہیں۔ انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کی جانے والی اس کارروائی کے بعد ملزمان کے خلاف فارن ایکسچینج ریگولیشن ایکٹ کے تحت مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے، جبکہ ان کے بین الاقوامی روابط اور مقامی معاونین کی نشاندہی کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات ہنڈی اور حوالہ جیسے غیر قانونی ذرائع قومی معیشت کے لیے طویل عرصے سے ایک سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اس متوازی معیشت کے باعث ایک طرف قومی خزانے کو محصولات کی مد میں بھاری نقصان پہنچتا ہے تو دوسری جانب روپے کی قدر پر شدید منفی دباؤ رہتا ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق، کرنسی کی غیر دستاویزی منتقلی ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو نقصان پہنچاتی ہے اور قانونی بینکاری نظام کے ذریعے ترسیلات زر کی آمد کو متاثر کرتی ہے۔ ایسے منظم نیٹ ورکس کے خلاف مسلسل قانونی کارروائیوں سے اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر سمیت دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی قیمتوں میں غیر فطری اتار چڑھاؤ کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔ تجارتی منڈیوں اور ریٹیل سیکٹر کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شفاف اور دستاویزی معیشت ہی برآمد کنندگان اور قانونی تاجروں کے لیے یکساں اور مستحکم کاروباری فضا فراہم کر سکتی ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی حکام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ریاست پاکستان کی معاشی خود مختاری اور مالیاتی استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ کارپوریٹ و ریگولیٹری اداروں کے نمائندوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کسی کو بھی غیر قانونی طور پر رقوم کی سرحد پار منتقلی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب، قانونی ایکسچینج کمپنیوں کے نمائندوں اور مقامی تاجر برادری نے ان کارروائیوں کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ گرے مارکیٹ اور غیر قانونی عناصر کے خاتمے سے رجسٹرڈ ایکسچینج کمپنیوں کا کاروبار مستحکم ہوتا ہے اور عوام کا اعتماد قانونی ذرائع پر بڑھتا ہے، جس سے ملک میں ترسیلات زر کے بہاؤ کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں کراچی سمیت ملک کے دیگر بڑے تجارتی مراکز میں غیر قانونی منی چینجرز اور حوالہ آپریٹرز کے خلاف کریک ڈاؤن مزید سخت کیے جانے کا قوی امکان ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کی جانب سے مشکوک مالی لین دین پر کڑی نگرانی رکھی جا رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان کارروائیوں کو بلا تعطل اور مؤثر طریقے سے جاری رکھا گیا تو اس سے نہ صرف روپے کے استحکام میں مدد ملے گی بلکہ غیر دستاویزی معیشت کے دائرہ کار کو محدود کر کے بینکاری نظام کو مزید تقویت بخشی جا سکے گی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
کراچی میں غیر قانونی ہنڈی حوالہ نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن، دو ملزمان گرفتار