Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کو مکمل وسائل فراہم کیے جائیں گے: گورنر خیبرپختونخوا کا اعلان

گورنر خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف نبرد آزما پولیس اور فورسز کو تمام ممکنہ وسائل فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے امن کے قیام کو ناگزیر قرار دیا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کو مکمل وسائل فراہم کیے جائیں گے: گورنر خیبرپختونخوا کا اعلان

اہم ترین حقائق و پس منظر خیبرپختونخوا میں سکیورٹی کی مجموعی صورتحال اور انسداد دہشت گردی کے حالیہ چیلنجز کے تناظر میں گورنر خیبرپختونخوا نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کے ساتھ غیر مشروط تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ پشاور میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور اعلیٰ حکام سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ریاست اپنے محافظوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ صوبے کے مختلف اضلاع بالخصوص ضم شدہ قبائلی علاقوں اور جنوبی اضلاع میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کے بعد پولیس کے کردار، ان کے سازوسامان اور تربیتی صلاحیتوں کو ازسرنو مستحکم کرنے کا مطالبہ شدت اختیار کر چکا تھا۔ گورنر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فرنٹ لائن پر فرائض سرانجام دینے والے جوانوں اور افسران کی قربانیاں ضائع نہیں ہونے دی جائیں گی اور انہیں دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق ضروری جنگی اور انٹیلی جنس تعاون فراہم کیا جائے گا۔

تجارتی و معاشی اثرات خیبرپختونخوا کے صنعتی و تجارتی حلقوں کے لیے امن و امان کی نازک صورتحال طویل عرصے سے شدید معاشی تعطل کا باعث بنی ہوئی ہے۔ دہشت گردی اور بھتہ خوری کے خدشات کی وجہ سے خطے میں نجی سرمایہ کاری رکی ہوئی ہے، جبکہ تجارتی شاہراہوں اور سرحدی گزرگاہوں پر نقل و حمل میں رکاوٹوں سے ہول سیل و ریٹیل مارکیٹوں کو کثیر نقصان پہنچا ہے۔ مقامی تاجروں اور چیمبر آف کامرس کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کو بااختیار اور فعال بنائے بغیر معاشی استحکام ناممکن ہے۔ اگر حکومتی وعدوں کے مطابق امن بحال ہوتا ہے تو اس سے نہ صرف افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں اضافہ ہوگا بلکہ صوبے میں اشیائے خورونوش اور صنعتی خام مال کی قیمتوں میں استحکام آئے گا، جس سے مقامی کاروباری لاگت میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل گورنر خیبرپختونخوا کے اس بیان کا صوبائی سکیورٹی اداروں اور سول سوسائٹی کی جانب سے مثبت خیرمقدم کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے جدید ہتھیاروں سے لیس عناصر کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ترین بلٹ پروف گاڑیاں، نائٹ ویژن آلات اور ڈیجیٹل نگرانی کے ذرائع فوری درکار ہیں۔ دوسری جانب تاجر برادری اور سیاسی رہنماؤں نے زور دیا ہے کہ زبانی یقین دہانیوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ اپوزیشن حلقوں نے بھی اس بات پر زور دیا کہ پولیس فورس پر سیاسی اثر و رسوخ کے خاتمے اور ان کے بجٹ میں شفاف اضافے کے بغیر دہشت گردی کے خلاف دیرپا کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں صوبائی اور وفاقی سطح پر مشترکہ سکیورٹی جائزہ اجلاس متوقع ہیں جن میں فورسز کو فنڈز اور جدید سازوسامان کی فراہمی کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اگر ان اعلانات پر سنجیدگی سے عمل درآمد کیا گیا تو خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف پبلک سیکٹر میں اعتماد بحال ہوگا بلکہ معطل معاشی منصوبوں کو دوبارہ شروع کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ بصورت دیگر، سکیورٹی خلا معاشی انحطاط اور عوامی عدم تحفظ میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کو مکمل وسائل فراہم کیے جائیں گے: گورنر خیبرپختونخوا کا اعلان