Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

ڈاؤ یونیورسٹی میں انتظامی بحران: 27 ملازمین کی تعلیمی اسناد جعلی قرار، تادیبی کارروائی کا آغاز

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی کے 27 ملازمین کی ڈگریاں جانچ پڑتال کے دوران جعلی نکل آئیں، جس کے بعد انتظامیہ نے سخت قانونی اور محکمانہ اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔

ڈاؤ یونیورسٹی میں انتظامی بحران: 27 ملازمین کی تعلیمی اسناد جعلی قرار، تادیبی کارروائی کا آغاز

اہم ترین حقائق و پس منظر ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کراچی میں وسیع پیمانے پر تعلیمی اسناد کی جانچ پڑتال کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ ادارے کے 27 ملازمین کی تعلیمی ڈگریاں اور سرٹیفکیٹس جعلی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ ملازمین مختلف انتظامی، تکنیکی اور معاون شعبوں میں طویل عرصے سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ تعلیمی بورڈز کے ذریعے کروائی گئی تصدیق کے عمل میں ان ملازمین کی پیش کردہ اسناد غیر قانونی اور بوگس ثابت ہوئیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے اندرونی انکوائری کمیٹی کی حتمی رپورٹ کے بعد ان تمام افراد کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس میں برطرفی، تنخواہوں کی ریکوری اور فوجداری مقدمات کے اندراج کی سفارشات شامل ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات تعلیمی اور طبی شعبے میں سامنے آنے والا یہ بحران براہِ راست ریاستی خزانے اور عوامی وسائل کے ضیاع کی عکاسی کرتا ہے۔ ان نااہل ملازمین کو برسوں تک قومی خزانے سے تنخواہوں، مراعات اور پنشن فنڈز کی مد میں کروڑوں روپے ادا کیے جاتے رہے، جو شفافیت کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ کارپوریٹ گورننس کے نقطہ نظر سے، ڈاؤ یونیورسٹی جیسے بڑے ہیلتھ کیئر انسٹی ٹیوٹ میں غیر اہل عملے کی موجودگی سروس ڈیلیوری، مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار اور ادویات و طبی آلات کی ترسیل کے توسیعی عمل کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ مارکیٹ میں صحت کی دیکھ بھال کی لاگت اور اداروں پر اعتماد کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے میرٹ اور پیشہ ورانہ مہارت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، جس کی نفی سے مجموعی معاشی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل ڈاؤ یونیورسٹی کے ترجمان کے مطابق انتظامیہ نے کرپشن اور نااہلی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنا رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تمام ملازمین کی تعلیمی دستاویزات کی ازسرنو شفاف جانچ کی جا رہی ہے اور جعلی اسناد کے حامل کسی بھی فرد کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب متاثرہ ملازمین کے بعض نمائندوں کا مؤقف ہے کہ انکوائری کے طریقہ کار میں دفاع کا بھرپور موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ تاہم وکلا اور قانونی ماہرین کا مؤقف ہے کہ جعل سازی کے ذریعے سرکاری ملازمت حاصل کرنا پاکستان پینل کوڈ کے تحت سنگین جرم ہے جس پر سخت سزائیں لاگو ہونی چاہئیں۔

مستقبل کا منظرنامہ اس واقعے کے بعد سندھ بھر کے دیگر سرکاری اور نیم سرکاری طبی اداروں میں بھی ملازمین کی تعلیمی اسناد کی مکمل اسکروٹنی کا عمل تیز ہونے کی توقع ہے۔ مبصرین کے مطابق صوبائی حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو ملازمتوں کی تصدیق کے لیے ایک خودکار اور ڈیجیٹل سسٹم وضع کرنا ہوگا تاکہ آئندہ اس نوعیت کی ہیرا پھیری کا مستقل سدباب کیا جا سکے۔ ملازمین سے سابقہ تنخواہوں اور مراعات کی ممکنہ وصولی دیگر سرکاری محکموں کے لیے بھی ایک احتسابی نظیر قائم کر سکتی ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
ڈاؤ یونیورسٹی میں انتظامی بحران: 27 ملازمین کی تعلیمی اسناد جعلی قرار، تادیبی کارروائی کا آغاز