Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

سندھ میں ایم پاکس وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بننے والا غیر قانونی اسپتال سیل، ہیلتھ کیئر کمیشن کی سخت کارروائی

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے ایم پاکس کے ممکنہ پھیلاؤ اور ضوابط کی سنگین خلاف ورزی پر ایک غیر قانونی اسپتال کو سیل کرتے ہوئے صوبہ بھر میں نگرانی سخت کر دی ہے۔

سندھ میں ایم پاکس وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بننے والا غیر قانونی اسپتال سیل، ہیلتھ کیئر کمیشن کی سخت کارروائی

اہم ترین حقائق و پس منظر سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن نے صوبائی دارالحکومت میں عوامی صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک بڑی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے اس غیر قانونی اسپتال کو فوری طور پر سیل کر دیا ہے جو ایم پاکس (منکی پاکس) وائرس کے پھیلاؤ کا ذریعہ بن رہا تھا۔ کمیشن کے معائنہ کاروں کی جانب سے کی گئی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ مذکورہ طبی مرکز نہ صرف بغیر رجسٹریشن اور قانونی دستاویزات کے کام کر رہا تھا بلکہ وہاں وبائی امراض کے تدارک کے لیے وضع کردہ بین الاقوامی اور قومی ایس او پیز کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جا رہی تھی۔ اسپتال میں ایم پاکس کے مشتبہ مریضوں کو نامناسب قرنطینہ سہولیات میں رکھا گیا تھا جس کی وجہ سے دیگر عملے اور مریضوں میں وائرس کی منتقلی کے شدید خطرات پیدا ہو چکے تھے۔ کمیشن نے اسپتال کا تمام ریکارڈ قبضے میں لے کر مزید قانونی چارہ جوئی کا آغاز کر دیا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات صحت کے شعبے میں اس نوعیت کی بے ضابطگیاں اور وبائی امراض کا غیر قانونی مراکز سے پھیلاؤ نجی صحت کی دیکھ بھال کی صنعت اور معیشت پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق غیر قانونی اسپتالوں کے خلاف کریک ڈاؤن سے ایک طرف تو مستند ادویات اور سینیٹائزیشن آلات کے تجارتی کاروبار میں شفافیت آئے گی لیکن دوسری جانب نجی طبی شعبے میں خدمات کی لاگت میں وقتی اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ ریٹیل فارمیسی اور میڈیکل سپلائیز سے وابستہ تاجروں کا کہنا ہے کہ ضوابط کی سختی سے طبی آلات اور ضروری حفاظتی لباس کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، جس سے مارکیٹ میں معیاری پروڈکٹس کی اہمیت اجاگر ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی صحت کے شعبے میں سرمایہ کاروں کو سخت جانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا پڑے گا جس سے غیر معیاری سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوگی۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے ترجمان نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ عوامی زندگیوں سے کھیلنے والے کسی بھی عنصر کو رعایت نہیں دی جائے گی اور ایسے تمام کلینکس اور اسپتالوں کو بند کیا جائے گا جو ضوابط پر پورا نہیں اترتے۔ دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور ڈاکٹرز برادری نے اس کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتائیوں اور غیر مجاز طبی مراکز کا فوری خاتمہ ناگزیر ہے کیونکہ یہ نہ صرف طبی پیشے کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں بلکہ متعدی امراض کی روک تھام کی حکومتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ شہری تنظیموں نے بھی کمیشن کے اقدام کو سراہتے ہوئے صوبے کے دور دراز علاقوں میں بھی مانیٹرنگ ٹیمیں بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ ایم پاکس کے بڑھتے ہوئے بین الاقوامی خدشات کے پیش نظر حکومت سندھ نے تمام سرکاری و نجی اسپتالوں کے لیے گائیڈ لائنز مزید سخت کر دی ہیں۔ آئندہ دنوں میں ہیلتھ کیئر کمیشن کی جانب سے صوبہ بھر کے نجی اسپتالوں اور لیبارٹریوں کی وسیع پیمانے پر اسکروٹنی متوقع ہے تاکہ تصدیق کی جا سکے کہ وہاں آئسولیشن وارڈز اور وائرس کنٹرول پروٹوکولز فعال ہیں۔ انتظامیہ نے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ علامات ظاہر ہونے پر صرف مستند اور حکومت کے منظور شدہ تدریسی و ضلعی اسپتالوں سے رجوع کریں تاکہ کسی بھی وبائی لہر کو بروقت روکا جا سکے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
سندھ میں ایم پاکس وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بننے والا غیر قانونی اسپتال سیل، ہیلتھ کیئر کمیشن کی سخت کارروائی