پی ٹی آئی کا مشاورت کا پرانا عذر تین سال میں افادیت کھو چکا ہے: عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا مشاورت کے نام پر وقت ضائع کرنے کا پرانا حربہ اب مکمل طور پر بے نقاب ہو چکا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت کی جانب سے ہر اہم قومی معاملے پر مشاورت کا پرانا عذر اب تین سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد اپنی افادیت اور وزن کھو چکا ہے۔ سیاسی حلقوں میں اس بیان کو موجودہ سیاسی کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران ملک میں رونما ہونے والے سیاسی اتھل پتھ اور فیصلوں میں تاخیر کے پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے درمیان کسی بھی نکتے پر اتفاق رائے کا فقدان رہا ہے۔ وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ قومی مفاد کے امور پر مسلسل تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں تاکہ ملکی ترقی کے سفر کو روکا جا سکے۔
تجارتی و معاشی اثرات ملک میں جاری اس سیاسی رسہ کشی اور محاذ آرائی کے اثرات صرف ایوان تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کا براہ راست اور گہرا اثر ملکی معیشت، تجارت اور عام آدمی کے روزگار پر پڑ رہا ہے۔ کاروباری برادری، تاجروں اور سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی غیر یقینی کی فضا کی وجہ سے ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری شدید متاثر ہو رہی ہے۔ منڈیوں میں بے یقینی کے باعث مہنگائی کی لہر قابو میں لانے کے باوجود عام خریدار اور ریٹیلرز مشکلات کا شکار ہیں۔ معاشی ماہرین کا یہ تجزیہ ہے کہ جب تک سیاسی استحکام حاصل نہیں ہوتا، اس وقت تک صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ اور معاشی اصلاحات کے ثمرات نچلی سطح تک منتقل نہیں ہو سکتے۔ تجارتی حلقے دونوں فریقین سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر معیشت کو ترجیح دیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی ترجمانوں اور وزراء کا مؤقف ہے کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ مذاکرات کے دروازے بند رکھے ہیں اور جب بھی ملک کو آگے بڑھانے کا کوئی موقع آیا، انہوں نے انتشار کی راہ اختیار کی۔ عطا تارڑ کا یہ بیان اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں انہوں نے واضح کیا کہ اب حکومت مزید کسی غیر ضروری تاخیر کو برداشت نہیں کرے گی۔ دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ہمیشہ سے یہ مؤقف رہا ہے کہ حکومت کے ساتھ اس وقت تک کوئی meaningful مذاکرات ممکن نہیں جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور ان کی قیادت کو ریلیف نہیں ملتا۔ فریقین کے اس کڑے مؤقف کی وجہ سے سیاسی ڈیڈ لاک تاحال برقرار ہے اور بات چیت کی کوئی مثبت سبیل دکھائی نہیں دے رہی۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے دنوں میں سیاسی اور معاشی منظرنامہ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حکومت اور اپوزیشن کس لائحہ عمل کا انتخاب کرتی ہیں۔ اگر یہی محاذ آرائی جاری رہی تو ملک کو مزید معاشی و انتظامی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تاہم، مبصرین کا خیال ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز بیٹھ کر پارلیمانی اور جمہوری اصولوں کے تحت معاملات کو حل کریں، بصورت دیگر مسلسل سیاسی عدم استحکام ملکی سلامتی اور اقتصادی ترقی کے لیے مستقل خطرہ بنتا رہے گا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp