Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

وفاقی حکومت کے خلاف دوبارہ لانگ مارچ کی صلاحیت رکھتے ہیں، اسد قیصر کا دو ٹوک اعلان

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے دعویٰ کیا ہے کہ اپوزیشن اب بھی وفاقی حکومت گرانے کی مکمل طاقت رکھتی ہے، جس سے ملک میں سیاسی و معاشی بے یقینی گہری ہو گئی ہے۔

وفاقی حکومت کے خلاف دوبارہ لانگ مارچ کی صلاحیت رکھتے ہیں، اسد قیصر کا دو ٹوک اعلان

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ملکی سیاست میں نیا تنازع کھڑا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جماعت اب بھی وفاقی دارالحکومت کی طرف بھرپور لانگ مارچ کر کے برسرِ اقتدار اتحاد کو گرانے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حکومت کو عوامی تائید حاصل نہیں ہے اور وہ فارم سینتالیس کے سہارے اقتدار پر براجمان ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اگر آئین اور قانون کی بحالی، عدلیہ کی آزادی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو سڑکوں پر عوامی قوت کا مظاہرہ ناگزیر ہو جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی آئینی ترامیم اور سیاسی محاذ آرائی کی زد میں ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات لانگ مارچ اور دھرنوں کی نئی دھمکیوں نے ملکی تجارتی اور مالیاتی حلقوں میں تشویش کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔ پاکستان سٹاک ایکسچینج جو حالیہ دنوں میں استحکام کی جانب گامزن تھی، سیاسی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کی تاجر برادری نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ راستوں کی بندش، کنٹینرز کی تنصیب اور انٹرنیٹ و مواصلاتی رابطوں میں تعطل سے روزمرہ کا کاروبار بری طرح متاثر ہوگا۔ درآمدات و برآمدات سے وابستہ لاجسٹکس کا شعبہ براہِ راست متاثر ہونے سے ترسیلی لاگت میں اضافہ ہوگا جس کا حتمی بوجھ عام صارف پر مہنگائی کی صورت میں پڑے گا۔ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کار جو معاشی اصلاحات اور استحکام کے منتظر ہیں، ایسی سیاسی کشمکش کے نتیجے میں سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر کر سکتے ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل اسد قیصر کے اس جارحانہ بیان پر وفاقی حکومت اور حکمران اتحاد کے رہنماؤں نے سخت ردعمل دیا ہے۔ وفاقی وزراء نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ تحریک انصاف کا مقصد ملک کو معاشی دلدل سے نکلنے نہ دینا اور ہر مثبت پیش رفت کو سبوتاژ کرنا ہے۔ حکومتی ترجمانوں کے مطابق قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی کو بھی دارالحکومت پر چڑھائی یا نظام مفلوج کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب اپوزیشن کے دیگر ارکان کا کہنا ہے کہ احتجاج ان کا آئینی حق ہے اور اگر حکومت نے بنیادی جمہوری حقوق سلب کرنے کی کوشش کی تو عوام کا سمندر وفاقی ایوانوں کا رخ کرے گا۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند ہفتے ملکی سیاست کے لیے انتہائی نازک تصور کیے جا رہے ہیں۔ اگر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پس پردہ مذاکرات کا کوئی راستہ نہ نکلا تو سیاسی محاذ آرائی تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ سکیورٹی اداروں اور وفاقی انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے پیشگی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک کسی نئے سیاسی ہیجان کا متحمل نہیں ہو سکتا، لہٰذا تمام فریقین کو چاہیے کہ وہ پارلیمان کے اندر حل تلاش کریں تاکہ معاشی بحالی کا عمل پٹڑی سے نہ اترے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
وفاقی حکومت کے خلاف دوبارہ لانگ مارچ کی صلاحیت رکھتے ہیں، اسد قیصر کا دو ٹوک اعلان