Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

احمد آباد کے شاہ پور میں دو صدیوں پرانی منفرد روایت، مردوں کا زنانی لباس میں کفارہ رقص اور مقامی معیشت پر اثرات

احمد آباد کے علاقے شاہ پور میں دو صدیوں سے مردوں کی جانب سے زنانی لباس پہن کر معافی مانگنے کی غرض سے گربا رقص پیش کرنے کی تاریخی و منفرد روایت بدستور جاری ہے۔

احمد آباد کے شاہ پور میں دو صدیوں پرانی منفرد روایت، مردوں کا زنانی لباس میں کفارہ رقص اور مقامی معیشت پر اثرات

اہم ترین حقائق و پس منظر بھارتی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد کے تاریخی علاقے شاہ پور میں گزشتہ دو سو سال سے زائد عرصے سے ایک انتہائی منفرد اور قدیم روایت تسلسل کے ساتھ نبھائی جا رہی ہے۔ نوراتری کے دوران سَدوماتا چوک میں واقع مندر کے سامنے مرد حضرات روایتی خواتین کا لباس، ساڑھی اور زیورات زیب تن کر کے جمع ہوتے ہیں اور مخصوص انداز میں 'گربا' رقص پیش کرتے ہیں۔ مقامی تاریخ اور عقائد کے مطابق، یہ اقدام محض کوئی رسمی تفریح یا تہوار کا جشن نہیں ہے بلکہ یہ ماضی میں سرزد ہونے والی ایک بڑی اجتماعی خطاء کا اعلانیہ اعتراف اور معافی مانگنے کی رسم کا اٹوٹ حصہ ہے۔ روایات بتاتی ہیں کہ صدیوں قبل اس بستی میں ایک معصوم خاتون سَدوماتا کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور اس کے نتیجے میں ملنے والی بددعا سے نجات حاصل کرنے کے لیے اس بستی کے مردوں نے عاجزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواتین کا بھیس بدل کر کفارہ ادا کرنے کا طریقہ اختیار کیا تھا۔ تب سے لے کر آج تک یہ تسلسل نسل در نسل قائم ہے اور ہر سال سینکڑوں مرد اس رسم کو مذہبی عقیدت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات اگرچہ یہ بظاہر ایک سماجی اور مذہبی رسم نظر آتی ہے، تاہم شاہ پور اور اس کے قرب و جوار میں اس تقریب کے تجارتی اور معاشی اثرات بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ اس مخصوص تقریب کے انعقاد کے دوران روایتی ملبوسات، زنانہ زیورات، میک اپ کے سامان اور روایتی پوجا پاٹ کے اجناس کی فروخت میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ مقامی کپڑا منڈیوں اور سمال اسکیل ریٹیلرز کے مطابق، اس عرصے میں کرائے کے لباس، سلائی کے شعبے اور دستکاری کے فنکاروں کو قلیل مدتی لیکن مستحکم روزگار میسر آتا ہے۔ اس کے علاوہ، ملکی اور بین الاقوامی سطح سے محققین، دستاویزی فلم سازوں اور سیاحوں کی آمد سے مقامی ٹرانسپورٹ، چھوٹے ہوٹلوں اور فوڈ اسٹالز کے کاروبار کو خاطر خواہ سہارا ملتا ہے، جس سے اس قدیم علاقے کی مائیکرو اکانومی پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل اس روایتی اجتماع کے حوالے سے مقامی سماجی تنظیموں، مندر کمیٹی اور شرکاء کا مؤقف ہے کہ یہ رسم مردانہ انا کو توڑنے اور عاجزی و ندامت کے فلسفے کو عملی جامہ پہنانے کی شاندار علامت ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں جہاں روایات دم توڑ رہی ہیں، وہیں شاہ پور کے باسی اپنی تاریخی شناخت اور اس کے ذریعے ملنے والے اخلاقی سبق کو ہر قیمت پر زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب مقامی تاجر برادری نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تقریب کے نظم و ضبط، سکیورٹی اور سیاحتی سہولیات میں اضافہ کیا جائے تاکہ اس ثقافتی ورثے کو باقاعدہ سیاحتی اور تجارتی مرکز کے طور پر ترقی دی جا سکے۔ شہری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امن و امان اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھتے ہوئے اس روایت کو مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ ماہرین عمرانیات اور علاقائی مبصرین کا خیال ہے کہ گلوبلائزیشن اور میڈیا کی توجہ کے باعث احمد آباد کی یہ منفرد تقریب اب محض ایک محلے تک محدود نہیں رہی بلکہ ایک بین الاقوامی ثقافتی موضوع بن چکی ہے۔ مستقبل میں اگر اسے ثقافتی سیاحت اور تخلیقی معیشت کے ماڈل کے تحت منظم کیا جائے تو یہ نہ صرف قدیم ورثے کے تحفظ کا ذریعہ بنے گی بلکہ خطے کی معاشی سرگرمیوں میں بھی پائیدار اضافہ کرے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ برسوں میں نوجوان نسل اس رسم کے سماجی و تاریخی پہلوؤں کو جدید دستاویزی انداز میں دنیا کے سامنے لائے گی، جس سے اس کی تاریخی اہمیت مزید اجاگر ہو گی۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
احمد آباد کے شاہ پور میں دو صدیوں پرانی منفرد روایت، مردوں کا زنانی لباس میں کفارہ رقص اور مقامی معیشت پر اثرات