Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

بلوچستان کے ضلع خضدار میں زلزلے کے شدید جھٹکے، تجارتی اور شہری سرگرمیاں متاثر

بلوچستان کے ضلع خضدار اور اطراف میں زلزلے کے جھٹکوں سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ مارکیٹوں میں کاروباری سرگرمیاں وقتی طور پر تعطل کا شکار ہو گئیں۔

بلوچستان کے ضلع خضدار میں زلزلے کے شدید جھٹکے، تجارتی اور شہری سرگرمیاں متاثر

اہم ترین حقائق و پس منظر بلوچستان کا ضلع خضدار اور اس کے مضافاتی علاقے زلزلے کے شدید جھٹکوں سے لرز اٹھے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زیر زمین ہلچل کے باعث جھٹکے اس شدت کے تھے کہ لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں اور دکانوں سے کھلے میدانوں کی طرف نکل آئے۔ خضدار جغرافیائی اعتبار سے فالٹ لائن پر واقع ہونے کی وجہ سے ماضی میں بھی زلزلوں کی زد میں رہا ہے، جس کی وجہ سے معمولی جھٹکوں پر بھی عوامی اضطراب اور خوف میں فوری اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق زلزلے کے نتیجے میں کسی بڑے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے، تاہم بعض کچے مکانات اور دیہی علاقوں میں دراڑیں پڑنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں جن کا تکنیکی سروے کیا جا رہا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات خضدار بلوچستان کے اہم تجارتی اور لاجسٹک مراکز میں شمار ہوتا ہے جو کراچی، کوئٹہ اور سی پیک روٹ سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ زلزلے کے فوری بعد مرکزی تجارتی مراکز، صرافہ بازار، غلہ منڈی اور ٹرانسپورٹ اڈے عارضی طور پر بند کر دیے گئے۔ کاروباری سرگرمیاں رکنے سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں اور ریٹیلرز کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تجارتی حلقوں کے مطابق سپلائی چین پر زلزلے کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کیونکہ خضدار کے ذریعے زرعی اور درآمدی اشیاء کی ترسیل کی جاتی ہے۔ اگر بنیادی ڈھانچے یا شاہراہوں کو نقصان نہ پہنچا تو سپلائی جلد معمول پر آنے کی توقع ہے، تاہم غیریقینی صورتحال نے منڈیوں کے تاجروں کو محتاط کر دیا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل ضلعی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر خضدار نے تمام تحصیل انتظامیہ، ہسپتالوں اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ دوسری جانب انجمن تاجران خضدار نے مقامی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ تجارتی عمارات اور منڈیوں کے حفاظتی معائنے کو یقینی بنائیں تاکہ تاجر برادری پرسکون ہو کر کاروبار بحال کر سکے۔ تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تجارتی سرگرمیوں کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ خطے کی معیشت پر کوئی منفی دباؤ نہ آئے۔

مستقبل کا منظرنامہ ماہرین ارضیات کے مطابق زلزلے کے بعد آفٹر شاکس کے امکانات رد نہیں کیے جا سکتے، جس کے لیے شہریوں اور تاجروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ آنے والے دنوں میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے املاک کے تفصیلی سروے کی رپورٹ سامنے آنے کا امکان ہے جس کے بعد ضرورت پڑنے پر ریلیف اقدامات کیے جائیں گے۔ اگر آفٹر شاکس کا سلسلہ نہ بڑھا تو تجارتی و سماجی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہو جائیں گی، تاہم یہ واقعہ خطے میں آفات سے نمٹنے کے بنیادی ڈھانچے اور جدید حفاظتی انتظامات کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
بلوچستان کے ضلع خضدار میں زلزلے کے شدید جھٹکے، تجارتی اور شہری سرگرمیاں متاثر