Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

خستہ حال اسکول عمارتوں کی غیر قانونی رجسٹریشن: حفاظتی معائنے کے بغیر منظوریوں نے تعلیمی و معاشی شعبے میں تشویش پیدا کر دی

حکام کی جانب سے عمارتوں کے باقاعدہ معائنے کے بغیر نجی اسکولوں کی رجسٹریشن کی منظوری نے تعلیمی شعبے کے ریگولیٹری نظام اور تعمیراتی شعبے کے شفاف طریقہ کار پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

خستہ حال اسکول عمارتوں کی غیر قانونی رجسٹریشن: حفاظتی معائنے کے بغیر منظوریوں نے تعلیمی و معاشی شعبے میں تشویش پیدا کر دی

اہم ترین حقائق و پس منظر حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ متعدد تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا ساختیاتی اور تیکنیکی معائنہ کیے بغیر ہی ان کی باضابطہ رجسٹریشن اور تجدید کی اجازت دی گئی۔ ضلعی تعلیمی اتھارٹیز اور بلڈنگ کنٹرول کے محکموں کے درمیان رابطے کے فقدان اور مبینہ بے ضابطگیوں کی وجہ سے درجنوں ایسی عمارتوں کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے جو بنیادی حفاظتی معیار پر بھی پورا نہیں اترتی تھیں۔ ذرائع کے مطابق فیلڈ انسپکشن کا طے شدہ طریقہ کار نظر انداز کرتے ہوئے کاغذی کارروائی کے ذریعے اسکول انتظامیہ کو این او سی فراہم کی گئی۔ اس غفلت نے جہاں ہزاروں طلبا اور اساتذہ کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے وہیں ریاستی اداروں کی کارکردگی اور مانیٹرنگ کے میکانزم پر بھی سنجیدہ سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات اس غیر قانونی عمل کے معاشی اور تجارتی اثرات بھی غیر معمولی ہیں۔ تعلیمی شعبے میں ناقص انفراسٹرکچر کی اجازت سے کنسٹرکشن انڈسٹری، بلڈنگ میٹریل کے سپلائرز اور محفوظ ریئل اسٹیٹ مارکیٹ پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ قانونی تقاضے پورے کرنے والے معیاری ڈیولپرز اور تعمیراتی سامان کی باضابطہ مارکیٹ کو نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ سستے اور غیر معیاری سامان کے بل بوتے پر بنی عمارات کا غیر قانونی کاروبار فروغ پا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اگر حکومت خستہ حال عمارات کے خلاف سخت تادیبی مہم شروع کرتی ہے تو مڈل کلاس نجی تعلیمی کاروبار، انشورنس کمپنیوں اور متعلقہ سروسز کو کروڑوں روپے کے مالی خسارے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سرمایہ کاروں کا تعلیمی شعبے میں اعتماد بحال رکھنا شفاف ریگولیشن کے بغیر ناممکن ہو چکا ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل شہری تنظیموں اور والدین کی انجمنوں نے متعلقہ حکام کی مجرمانہ لاپروائی پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ دار افسران کے خلاف فوری فوجداری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن کے طویل اور پیچیدہ بیوروکریٹک عمل میں شفافیت لائی جائے اور خامیوں کی ذمہ داری محض نجی اسکول مالکان پر ڈالنے کی بجائے ریگولیٹری اداروں کا بھی محاسبہ کیا جائے۔ متعلقہ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اعتراف کیا ہے کہ عملے کی کمی اور مانیٹرنگ کے ناکافی وسائل کی وجہ سے عمارات کی فزیکل جانچ پڑتال میں کوتاہیاں ہوئیں جن کی اب اندرونی انکوائری کی جا رہی ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران اس معاملے پر جامع پالیسی فریم ورک اور سخت مانیٹرنگ پلان سامنے آنے کا امکان ہے۔ حکومت پر عوامی دباؤ بڑھنے کے باعث تمام رجسٹرڈ اسکولوں کی عمارتوں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کروانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں ممکنہ طور پر غیر معیاری عمارتوں کی منسوخی، طلبہ کی محفوظ مقامات پر منتقلی اور اسکول انفراسٹرکچر ری ہیبلیٹیشن کے نئے معاشی تقاضے پیدا ہوں گے۔ طویل مدتی بنیادوں پر شفاف ڈیجیٹل انسپکشن کا نفاذ نہ صرف انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ مارکیٹ میں پائیدار سرمایہ کاری اور تعمیراتی شعبے کے استحکام کی بنیاد بھی بنے گا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
خستہ حال اسکول عمارتوں کی غیر قانونی رجسٹریشن: حفاظتی معائنے کے بغیر منظوریوں نے تعلیمی و معاشی شعبے میں تشویش پیدا کر دی