Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

عمرکوٹ میں آلودہ پانی کا عذاب: مویشی خوراک کی صنعت اور دیہی معیشت کو شدید دھچکا

عمرکوٹ کے نواحی علاقے میں زہریلا پانی پینے سے قیمتی مویشیوں کی ہلاک ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس سے غریب کسانوں اور مالداروں کو شدید معاشی نقصان پہنچا ہے۔

عمرکوٹ میں آلودہ پانی کا عذاب: مویشی خوراک کی صنعت اور دیہی معیشت کو شدید دھچکا

اہم ترین حقائق و پس منظر سندھ کے پسماندہ ضلع عمرکوٹ کے قریب واقع علاقے کاروڑو سماں میں ایک دردناک واقعہ پیش آیا جہاں پینے کے لیے دستیاب آلودہ اور مضرِ صحت پانی کے استعمال کے نتیجے میں تیس سے زائد بھیڑیں اور بکریاں ہلاک ہو گئیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ مویشی روزمرہ کی طرح چرنے کے لیے گئے تھے اور واپسی پر انہوں نے ایک مقامی تالاب یا ندی سے پانی پیا جو صنعتی یا نکاسی آب کے زہریلے مادوں سے آلودہ ہو چکا تھا۔ پانی پینے کے فورا بعد مویشیوں کی حالت غیر ہونے لگی اور کچھ ہی دیر میں وہ ہلاک ہو گئے۔ اس افسوسناک واقعے نے علاقے میں پانی کے معیار اور انسانی و حیوانی زندگی کو لاحق خطرات کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ مقامی آبادی پہلے ہی صاف پانی کی شدید قلت کا شکار ہے اور اب جانوروں کی اس طرح اچانک ہلاکت نے دیہی مکینوں کے لیے زندگی کو مزید اجیرن بنا دیا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات دیہی سندھ کی معیشت کا بڑا دار و مدار زراعت اور لائیو سٹاک یعنی مال مویشی پالنے پر ہے۔ عمرکوٹ اور اس کے گردونواح میں غریب خاندان نسل در نسل بھیڑ بکریاں پال کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ تیس سے زائد قیمتی جانوروں کی ایک ساتھ ہلاکت سے متاثرہ خاندانوں کو لاکھوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ایک طرف مہنگائی کے طوفان نے غریب کسانوں کی کمر توڑ رکھی ہے تو دوسری طرف بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث ان کے اثاثے یوں مٹی میں مل رہے ہیں۔ اس سانحے سے مقامی منڈی میں گوشت کی سپلائی اور قیمتوں پر بھی بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے جبکہ ریٹیلرز اور دیہی تاجروں کے کاروبار کو بھی زچگی کا سامنا ہے۔ اگر مویشیوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو دیہی معیشت کا یہ بنیادی ستارہ مزید کمزور ہو جائے گا۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل واقعے کے بعد علاقائی کسان اتحاد اور مقامی معززین نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور لائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ بارہا شکایت کے باوجود پینے کے پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اس مالی نقصان کا فوری معاوضہ دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ دوسری جانب، ابتدائی اطلاعات کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور واٹر سیمپلنگ کے لیے ٹیمیں روانہ کر دی گئی ہیں تاکہ آلودگی کے اصل اسباب کا پتہ لگایا جا سکے۔

مستقبل کا منظرنامہ اس سانحے نے حکام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اگر دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی کے منصوبوں کو شفاف اور فعال نہ بنایا گیا تو انسانی جانیں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ ماہرینِ معاشیات اور فلاحی تنظیموں نے زور دیا ہے کہ سندھ حکومت کو فوری طور پر عمرکوٹ سمیت تمام پسماندہ اضلاع میں واٹر فلٹریشن پلانٹس کی تنصیب اور مویشیوں کے لیے مفت طبی امداد کے کیمپ لگانے چاہئیں۔ بصورت دیگر، غربت میں مزید اضافہ ہوگا اور روایتی پیشے سے وابستہ افراد نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں گے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
عمرکوٹ میں آلودہ پانی کا عذاب: مویشی خوراک کی صنعت اور دیہی معیشت کو شدید دھچکا