Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

سیاسی بیانات اور ملکی معدنی وسائل پر بحث: طارق فضل چوہدری کا مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل

وفاقی رہنما طارق فضل چوہدری نے ملکی معدنی وسائل کو آئینی اقدامات اور ممکنہ ایمرجنسی سے جوڑنے پر مولانا فضل الرحمان کے بیان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

سیاسی بیانات اور ملکی معدنی وسائل پر بحث: طارق فضل چوہدری کا مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان کی موجودہ سیاسی فضا میں آئینی ترامیم اور ریاستی اقدامات پر جاری بحث نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے اس بیان پر سخت تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے مبینہ طور پر ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قیاس آرائیوں کو ملکی معدنی وسائل کے کنٹرول سے جوڑا تھا۔ طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ ایسے حساس نوعیت کے معاملات کو سیاسی مفادات یا بے بنیاد قیاس آرائیوں کی نذر کرنا قومی مفاد کے یکسر منافی ہے۔ حالیہ چند مہینوں کے دوران بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں موجود قدرتی و معدنی وسائل کی دریافت، کھدائی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ساتھ منصوبوں کے حوالے سے سیاسی بیانات میں غیر معمولی تیزی دیکھی گئی ہے، جس پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان لفظی گولہ باری شدت اختیار کر گئی ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات معاشی اور مالیاتی ماہرین کے مطابق معدنی ذخائر کسی بھی ترقی پذیر معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں ریکوڈک اور دیگر بڑے مائننگ منصوبوں میں اربوں ڈالر کی ممکنہ غیر ملکی سرمایہ کاری متوقع ہے، جس کے ذریعے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور روپے کی قدر کو سہارا ملنے کی امید ہے۔ تاہم، جب سیاسی قائدین کی جانب سے معدنی وسائل کو سیکیورٹی اور ایمرجنسی کی صورتحال سے جوڑا جاتا ہے تو بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور ملکی کارپوریٹ سیکٹر میں بے یقینی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اس قسم کے بیانات سے کیپٹل مارکیٹ پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور مقامی منڈیوں میں اعتماد کو دھچکا لگتا ہے۔ ریٹیلرز اور کاروباری برادری طویل مدتی پالیسی تسلسل کی متلاشی ہے، اور قدرتی وسائل کے حوالے سے پیدا ہونے والے تنازعات کاروباری سرگرمیوں کی رفتار کو سست کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے پریس کانفرنس اور میڈیا سے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ حکومت کی تمام تر توجہ ملکی معیشت کی بحالی، توانائی بحران کے حل اور قدرتی وسائل کو عوامی فلاح کے لیے بروئے کار لانے پر مرکوز ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان ایک سینئر پارلیمانی رہنما ہیں اور انہیں ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے جن سے ملک کی خودمختاری اور معاشی استحکام پر منفی تاثر ابھرے۔ دوسری جانب، اپوزیشن اور جے یو آئی (ف) کے حلقوں کا مؤقف رہا ہے کہ صوبائی خودمختاری اور مقامی وسائل پر صوبوں کے آئینی حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہونی چاہیے، اور کسی بھی قسم کی آئینی یا ہنگامی تبدیلیوں کو عوامی مفاد کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔ تجارتی حلقوں نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ ملکی معیشت کو سیاست کی نذر نہ کیا جائے۔

مستقبل کا منظرنامہ آنے والے دنوں میں معدنی وسائل کی ترقی اور سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے زیر اہتمام ہونے والی پیش رفت ملکی سیاسی بیانیے میں مرکز نگاہ رہے گی۔ اگر حکومت اور سیاسی قوتیں وسائل کی منصفانہ تقسیم اور آئینی شفافیت پر ہم آہنگی قائم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو اس سے غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں تیزی آئے گی۔ اس کے برعکس، اگر وسائل کی تقسیم اور پالیسی فیصلوں پر سیاسی رسہ کشی جاری رہی تو معاشی بحالی کا عمل متاثر ہونے اور اہم بین الاقوامی معاہدوں میں تاخیر کا خدشہ بدستور برقرار رہے گا۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
سیاسی بیانات اور ملکی معدنی وسائل پر بحث: طارق فضل چوہدری کا مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل