ریاست اور خیبرپختونخوا کا بحران: سیاسی محاذ آرائی نہیں، سلامتی اور معیشت کا سنگین چیلنج
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کا اصل مسئلہ سیاست نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔ اس بحران نے صوبے کی معاشی سرگرمیوں اور تجارتی نیٹ ورک کو شدید متاثر کیا ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے حالیہ پالیسی بیان میں اس امر پر زور دیا ہے کہ ریاست اور خیبرپختونخوا کے درمیان کشیدگی یا صوبے کو درپیش اصل مشکلات کا تعلق روایتی سیاسی اختلافات سے ہرگز نہیں ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، بالخصوص عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات، ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے صوبے کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز اور تنصیبات پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے نہ صرف انتظامی مشینری کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے بلکہ عام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو بھی خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ پس منظر کا جائزہ لیا جائے تو سیاسی جماعتوں کے مابین الزام تراشی کا یہ سلسلہ دراصل اس بنیادی سکیورٹی بحران سے توجہ ہٹانے کا سبب بن رہا ہے جسے حل کیے بغیر خطے میں استحکام ممکن نہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات خیبرپختونخوا میں جاری اس سکیورٹی بحران نے صوبے کی معیشت اور تجارت کو گہرے زک پہنچائی ہے۔ پشاور، بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان اور سوات سمیت دیگر تجارتی مراکز میں کاروباری سرگرمیاں شدید مندی کا شکار ہیں۔ سرمایہ کار صوبے میں ناگفتہ بہ حالات کے پیش نظر نئی سرمایہ کاری سے گریزاں ہیں، جب کہ مقامی صنعتیں اور چھوٹے تاجر بھتہ خوروں اور سکیورٹی خدزات کی وجہ سے اپنے کاروبار سمیٹنے پر مجبور ہیں۔ سپلائی چین متاثر ہونے سے اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کا براہ راست بوجھ عام صارفین اور ریٹیلرز اٹھا رہے ہیں۔ برآمدات اور پاک افغان تجارت سے وابستہ کاروباری طبقہ بھی اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے شدید مالی خسارے سے دوچار ہے، جس سے نہ صرف صوبائی بلکہ قومی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل وفاقی حکومت اور دفاعی اداروں کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور صوبے میں ریاست کی رٹ ہر صورت بحال کی جائے گی۔ خواجہ آصف کے مطابق سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر اس ناسور کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ دوسری جانب، صوبائی حکومت اور مقامی سیاسی جماعتیں وفاق پر وسائل کی کمی اور تعاون نہ کرنے کا الزام عائد کرتی ہیں۔ تاہم، تاجر برادری اور سول سوسائٹی کا متفقہ مؤقف ہے کہ سیاست اور عسکریت پسندی کی اس کشمکش میں معیشت کا پہیہ رک رہا ہے۔ تاجر رہنماؤں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تمام فریقین ذاتی اور سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں تاکہ کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہو سکے۔
مستقبل کا منظرنامہ اگر خیبرپختونخوا میں امن و امان کی اس صورتحال کو سنجیدگی سے حل نہ کیا گیا تو آنے والے مہینوں میں معاشی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ تجارتی خسارہ بڑھنے سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا جو بالآخر غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا سبب بنے گا۔ مستقبل میں حکومت اور عسکری قیادت کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ جب تک خطے میں امن اور قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی، تب تک کسی بھی قسم کی معاشی ترقی یا سیاسی استحکام کا حصول ناممکن ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ وفاق اور صوبہ دونوں مل کر ایک جامع اور مؤثر سکیورٹی و معاشی بحالی کا پلان نافذ کریں تاکہ عوام کو ریلیف اور کاروبار کو فروغ مل سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp