تھر کول منصوبے پاکستان کی معاشی خود انحصاری اور روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ تھر کے وسیع و عریض کوئلے کے ذخائر پاکستان کا مستقبل بدلنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں اور ان سے سستی توانائی کا حصول یقینی بنایا جا रहा ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر تھر کے صحرا میں موجود کوئلے کے وسیع ذخائر کو پاکستان کی توانائی کی تاریخ کا سب سے بڑا ذخیرہ مانا جاتا ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے گزشتہ ایک دہائی میں تھر کول پروجیکٹ کے تحت جن اقدامات کا آغاز کیا گیا، اس کے دور رس نتائج سامنے آنے لگے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ تھر کا کوئلہ نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو سستے داموں پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے سے لے کر اب تک بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے، جس سے گیس اور تیل پر انحصار کم کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات توانائی کے شعبے میں تھر کول منصوبوں کے نفاذ سے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ صنعتی شعبے کو نسبتاً سستی بجلی فراہم ہونے سے پیدیوار کی لاگت میں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے بین الاقوامی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بہتر ہوگی۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہونے سے قومی خزانے کے قیمتی زرمبادلہ کی بچت ہوگی جو ملکی معاشی استحکام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، مقامی سطح پر تجارت کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور ریٹیلرز اور کاروباری طبقے کو بھی طویل المدتی بنیادوں پر استحکام کی امید ملی ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل صوبائی حکومت اور توانائی کے شعبے کے ماہرین کا مؤقف ہے کہ تھر منصوبے نے ملکی معیشت کو سہارا دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ تاجر برادری اور صنعتی حلقوں نے اس عزم کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر توانائی کے نرخ مستحکم رہیں تو برآمدات میں نمایاں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، ماہرین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کوئلے کی کان کنی اور نقل و حمل کے نظام کو مزید جدید بنایا جائے تاکہ پیداواری عمل میں کسی قسم کی تعطل کا سامنا نہ کرناپڑے اور ماحولیاتی معیارات کا بھی بھرپور خیال رکھا جائے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند برسوں میں تھر کول منصوبے کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کا ارادہ ہے، جس کے تحت ریلوے لنک اور دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر شامل ہے۔ اس سے نہ صرف کوئلے کی ترسیل تیز ہوگی بلکہ ملک کے دوسرے حصوں میں موجود پاور پلانٹس کو بھی سستا ایندھن میسر آئے گا۔ حکومت اس عزم پر قائم ہے کہ سندھ کے اس پسماندہ خطے کو ملک کا سب سے بڑا انرجی ہب بنایا جائے گا، جس سے پاکستان بیرونی قرضوں کے بوجھ سے نجات پانے کے قابل ہو سکے گا۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp