آئین پاکستان کے تحت سندھ کی تقسیم ناممکن ہے: نثار کھوڑو کا دوٹوک مؤقف
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کھوڑو نے واضح کیا ہے کہ آئین کے تحت سندھ کی تقسیم کا کوئی تصور موجود نہیں ہے اور صوبے کے جغرافیائی حدود کو تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔

اہم ترین حقائق و پس منظر سندھ کے سیاسی منظر نامے میں صوبے کی ممکنہ تقسیم کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق صوبائی وزیر نثار کھوڑو نے دوٹوک مؤقف اپنایا ہے کہ آئین پاکستان کے تحت سندھ کو تقسیم کرنا قطعی طور پر ناممکن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ ایک تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی اکائی ہے جس کی شناخت کو مٹانے کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ حالیہ دنوں میں سیاسی حلقوں اور بعض مخصوص مجالس میں صوبے کی تقسیم کے حوالے سے اٹھنے والی آوازوں کے بعد یہ بیان انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ سندھ کے عوام اپنی ارضی سالمیت اور صوبائی خود مختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
تجارتی و معاشی اثرات سیاسی عدم استحکام اور صوبے کی تقسیم جیسی مباحث کا براہ راست اثر معاشی اور کاروباری سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔ سرمایہ کار ہمیشہ اس خطے کا رخ کرتے ہیں جہاں سیاسی استحکام اور انتظامی تسلسل موجود ہو۔ سندھ بالخصوص کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے، جہاں ملک کے تمام بڑے کاروباری ادارے، بینکس اور صنعتی زونز قائم ہیں۔ اس طرح کی غیر یقینی اور غیر ضروری بحثیں کاروباری برادری میں بے چینی پیدا کرتی ہیں، جس سے نہ صرف مقامی منڈیوں میں سرمایہ کاری کی رفتار سست ہوتی ہے بلکہ سپلائی چین اور تجارتی اعتماد کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ رہتا ہے۔ تجارتی ماہرین کے مطابق معاشی ترقی کے لیے سیاسی ہم آہنگی اور امن و امان کا قیام ناگزیر ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل نثار کھوڑو نے اپنے بیان میں زور دیا کہ سندھ کے غیور عوام صوبے کے ٹکڑے کرنے کی کسی بھی کوشش کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل ایک واضح طور پر صوبوں کی حدود اور حیثیت کا تعین کرتا ہے، لہذا اس نوعیت کے بیانات محض سیاسی انتشار پھیلانے اور عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کی ناکام کوشش ہیں۔ دوسری جانب، سندھ کی دیگر سیاسی اور قوم پرست جماعتوں نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی یکجہتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی اور تمام فریقین آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے سندھ کے حقوق کا تحفظ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر سیاسی گرما گرمی مزید بڑھنے کا امکان ہے، تاہم آئینی ماہرین کا ماننا ہے کہ قانون اور آئین میں اس بات کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ کسی صوبے کو زبردستی تقسیم کیا جا سکے۔ حکومت اور متعلقہ سیاسی حلقوں کو چاہیے کہ وہ اس قسم کے فرضی اور متنازع موضوعات پر توانائیاں ضائع کرنے کے بجائے عوام کے بنیادی مسائل، بے روزگاری، مہنگائی اور معاشی بہتری پر توجہ مرکوز کریں۔ سندھ کے مستقبل کا دارمدار سیاسی رواداری، جمہوری استحکام اور آئین کی بالادستی پر ہے، اور اس سمت میں اٹھائے جانے والے اقدامات ہی صوبے کو ترقی کی راہ پر گامزن رکھ سکتے ہیں۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp