Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کا اتائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد غیر قانونی مراکز سیل

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے صوبے بھر میں کارروائیاں کرتے ہوئے ایک ہزار سے زائد غیر قانونی طبی مراکز سیل کر دیے ہیں تاکہ عوام کو جعلی علاج سے نجات دلائی جا سکے۔

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کا اتائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد غیر قانونی مراکز سیل

اہم ترین حقائق و پس منظر

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (پی ایچ سی) نے صوبے کے مختلف اضلاع میں اتائیوں اور غیر قانونی طبی مراکز کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن کرتے ہوئے مجموعی طور پر ایک ہزار سینتیس (1037) مراکز کو سیل کر دیا ہے۔ یہ کارروائیاں محکمہ صحت کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کی گئی ہیں، جو مبینہ طور پر بغیر کسی مستند ڈگری اور لائسنس کے انسانی جانوں سے کھیل رہے تھے۔ کمیشن کی انفورسمنٹ ٹیموں نے مختلف شہروں میں چھاپے مار کر نہ صرف غیر قانونی کلینکس کو بند کیا بلکہ متعدد نام نہاد معالجین کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی آغاز کیا۔ اس مہم کا بنیادی مقصد صحت عامہ کے معیار کو بہتر بنانا اور عوام کو جاہل اور غیر تربیت یافتہ افراد کے رحم و کرم پر چھوڑنے سے بچانا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات

صحت کے شعبے میں اس طرح کے کریک ڈاؤن کے گہرے معاشی اور تجارتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ غیر قانونی طبی مراکز کم نرخوں پر علاج کی فراہمی کا دعویٰ کر کے غریب اور پسماندہ طبقات کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں، تاہم طویل مدت میں اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ثابت ہوتے ہیں اور مریضوں کو مہنگے اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ اس کارروائی سے جائز اور رجسٹرڈ میڈیکل پریکٹیشنرز کے کاروبار میں بہتری آئے گی اور صحت کی منڈی میں مسابقت کا ایک منصفانہ ماحول پیدا ہوگا۔ جب غیر قانونی عناصر مارکیٹ سے باہر ہوں گے تو مستند ڈاکٹروں اور فارماسیوٹیکل سیکٹر کے معتبر نیٹ ورک کو فروغ ملے گا، جس سے معیشت کے اس اہم شعبے میں شفافیت آئے گی۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انسانی صحت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اتائیوں کے خلاف یہ مہم بلا تعطل جاری رہے گی۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ علاج معالجے کے لیے صرف مستند اور رجسٹرڈ ڈاکٹروں کا انتخاب کریں۔ دوسری جانب، سول س sociedade اور عوامی حلقوں کی طرف سے اس اقدام کا بھرپور خیرمقدم کیا گیا ہے۔ طبی تنظیموں اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے بھی کمیشن کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان عناصر کے خلاف سخت سزاؤں کا نفاذ کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی بھی قانون کی دھجیاں بکھیرنے کی جرات نہ کر سکے۔

مستقبل کا منظرنامہ

آئندہ دنوں میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن نے اپنی کارروائیوں کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے کا تہیہ کیا ہے۔ دیہی علاقوں اور چھوٹے قصبوں میں خصوصی ٹیمیں تعینات کی جا رہی ہیں تاکہ چھپے ہوئے اتائیوں کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ مہم مستقل بنیادوں پر جاری رہی تو نہ صرف عوام کو معیاری طبی سہولیات میسر آئیں گی بلکہ صحت کے شعبے میں کرپشن اور غیر قانونی سرگرمیوں کا بھی مکمل سدباب ہو سکے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں ض ضلعی انتظامیہ اور پولیس کا بھرپور تعاون یقینی بنائے تاکہ قانون کی حکمرانی قائم ہو۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کا اتائیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، ایک ہزار سے زائد غیر قانونی مراکز سیل