Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: شازیہ مری کا داخلی استحکام اور معاشی خودمختاری پر زور

پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شازیہ مری نے واضح کیا ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں، جبکہ داخلی امن ہی ملکی معیشت کے استحکام کی بنیاد ہے۔

قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: شازیہ مری کا داخلی استحکام اور معاشی خودمختاری پر زور

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنماء اور سابق وفاقی وزیر شازیہ مری نے ملکی موجودہ داخلی و خارجی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ ریاست اور قوم کی سیکیورٹی پر کسی بھی نوعیت کی سودے بازی نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ حالیہ مہینوں میں درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور سرحد پار کشیدگی کے تناظر میں تمام ریاستی اداروں اور سیاسی قوتوں کو ایک ہی صفحے پر رہنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی داخلی امن و امان کو نقصان پہنچا، اس کا براہ راست خمیازہ ملکی خودمختاری اور عوام کی خوشحالی کو بھگتنا پڑا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت ہمیشہ سے پارلیمان کی بالادستی اور آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے قومی دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کی حامی رہی ہے، اور موجودہ حالات میں ریاستی اداروں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔

تجارتی و معاشی اثرات قومی سلامتی کے تقاضے صرف دفاعی خطوط تک محدود نہیں رہے بلکہ عصر حاضر میں معاشی استحکام براہ راست سیکیورٹی کی مجموعی فضا سے وابستہ ہو چکا ہے۔ صنعتی اور کاروباری حلقوں کا ماننا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خطرات اور امن و امان کی غیر یقینی صورتحال مقامی تجارتی سرگرمیوں کو مفلوج کر دیتی ہے۔ سپلائی چین کے تعطل، مال برداری کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور کاروباری لاگت میں غیر معمولی اضافہ مارکیٹ کے عام تاجر اور ریٹیل سیکٹر کے لیے سنگین مسائل پیدا کرتا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کار اس وقت تک سرمائے کی ترسیل سے گریزاں رہتے ہیں جب تک انہیں سازگار اور محفوظ ماحول میسر نہ آئے۔ لہٰذا قومی سلامتی کو اولین ترجیح دینا دراصل معاشی پہیے کو رواں رکھنے، کرنسی کے استحکام اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل شازیہ مری کے اس دو ٹوک بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے سیاسی اور تاجر تنظیموں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ سیکیورٹی پالیسی کو گروہی یا سیاسی مفادات سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔ وفاقی سطح پر حکومتی عہدیداران نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مالی اور تکنیکی ضروریات کو بلاتاخیر پورا کیا جائے گا۔ دوسری جانب چیمبرز آف کامرس اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز نے اپنے تجزیے میں واضح کیا کہ امن و امان کی بحالی کے لیے لیے جانے والے فیصلوں میں تاجر برادری کی مشاورت شامل کی جائے تاکہ اقتصادی مراکز اور صنعتی زونز کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی قومی ہم آہنگی اور قانون کی بالادستی پر مبنی فیصلوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ آنے والے دنوں میں سیکیورٹی حکمت عملی کے حوالے سے پارلیمان اور اعلیٰ سول و عسکری قیادت کے مابین روابط مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کی جغرافیائی و سیاسی صورتحال کے پیش نظر پالیسی سازوں کو اندرونی محاذ پر انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف ٹھوس اور سخت اقدامات کرنا ہوں گے۔ اگر ریاست داخلی سلامتی کے نظام کو مزید جامع اور پائیدار بنانے میں کامیاب رہتی ہے تو اس سے نہ صرف براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت بھی استحکام کی جانب گامزن ہوگی، جس کے مثبت اثرات براہ راست عام آدمی کی زندگی پر مرتب ہوں گے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا: شازیہ مری کا داخلی استحکام اور معاشی خودمختاری پر زور