کراچی کے جناح اسپتال میں ریبیز کا مشتبہ مریض دم توڑ گیا، آوارہ کتوں کی بہتات پر عوامی تشویش
کراچی کے جناح اسپتال میں ریبیز کا مشتبہ مریض جاں بحق ہو گیا ہے، جس کے بعد صوبائی دارالحکومت میں کتے کے کاٹنے کے واقعات اور ناکافی حفاظتی اقدامات پر تشویش کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر کراچی کے سب سے بڑے سرکاری طبی مرکز جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) میں سگ گزیدگی کا شکار ہونے والا ایک مشتبہ مریض زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گیا۔ اسپتال ذرائع کے مطابق متوفی کو چند روز قبل کتے کے کاٹنے کے باعث تشویشناک حالت میں لایا گیا تھا، جہاں اس میں ریبیز یعنی ہائیڈروفوبیا کی روایتی اور حتمی علامات ظاہر ہو چکی تھیں۔ طبی عملے نے مریض کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کی، تاہم مرض کے آخری مرحلے میں داخل ہونے کے سبب اس کی جان نہ بچائی جا سکی۔ سندھ بھر بالخصوص کراچی میں سگ گزیدگی کے واقعات تسلسل کے ساتھ رپورٹ ہو رہے ہیں، جہاں روزانہ درجنوں افراد سرکاری و نجی اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، لیکن بروقت اینٹی ریبیز ویکسین اور امیونوگلوبلین کی عدم دستیابی اموات کی بنیادی وجہ بن رہی ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات ریبیز کے بڑھتے ہوئے کیسز اور آوارہ کتوں کے خطرات براہ راست شہری معیشت اور صنعتی سرگرمیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ کراچی کے صنعتی و تجارتی علاقوں میں شام کے اوقات کے بعد مزدوروں اور ترسیلی عملے کی نقل و حرکت محدود ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں لاجسٹکس اور سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔ چھوٹے کاروباری مراکز اور ہاکرز کو شام کے اوقات میں صارفین کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ریٹیل کاروبار پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ، درآمدی ویکسین اور ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ صحت کے شعبے پر شدید مالی بوجھ ڈال رہا ہے، جبکہ عام شہریوں کو نجی میڈیکل اسٹورز سے مہنگے داموں ادویات خریدنے کے باعث شدید معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل شعبہ صحت کے ماہرین کا مؤقف ہے کہ سگ گزیدگی کے فوری بعد اینٹی ریبیز ویکسین اور متعلقہ پروٹوکول پر عمل درآمد زندگی اور موت کے درمیان فرق ثابت ہوتا ہے، مگر بنیادی مراکز صحت میں ویکسین کی عدم موجودگی صورتحال کو سنگین بنا دیتی ہے۔ دوسری جانب بلدیاتی اداروں اور ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں کتوں کی آبادی پر قابو پانے کے لیے مختلف اوقات میں مہمات چلائی جاتی ہیں، تاہم جانوروں کے حقوق کی تنظیموں کے تحفظات اور فنڈز کی کمی آڑے آتی ہے۔ تاجر تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے حکومتِ سندھ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ تمام ضلعی اسپتالوں میں ویکسین کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور شہر بھر میں مربوط ویکسینیشن و نیوٹرنگ پروگرام نافذ کیا جائے۔
مستقبل کا منظرنامہ اگر بلدیاتی اور صحت کے حکام نے مشترکہ اور ہنگامی حکمت عملی وضع نہ کی تو آنے والے گرمیوں کے مہینوں میں سگ گزیدگی اور ریبیز کے کیسز میں مزید خطرناک اضافے کا خدشہ ہے۔ طبی تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کو فوری طور پر تمام سرکاری اسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی مفت فراہمی کا آڈٹ کرنا چاہیے اور ضلعی سطح پر خصوصی ویکسینیشن کاؤنٹرز قائم کرنے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید طرز پر آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے سائنسی طریقوں کو باقاعدہ فنڈنگ دی جانی چاہیے تاکہ انسانی جانوں کے تحفظ کے ساتھ ساتھ شہری اور معاشی زندگی معمول کے مطابق رواں رہ سکے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp