احتجاج کی آڑ میں جلاؤ گھیراؤ یا قانون شکنی پر آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، شرجیل میمن
سندھ حکومت نے واضح کیا ہے کہ احتجاج کی آڑ میں جلاؤ گھیراؤ یا قانون ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا تاکہ معاشی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رہے۔

اہم ترین حقائق و پس منظر سندھ کے سینئر وزیر اطلاعات اور ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے حال ہی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ جمہوری نظام میں ہر شہری کو پرامن احتجاج کا آئینی حق حاصل ہے، لیکن اس حق کی آڑ میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے، جلاؤ گھیراؤ کرنے یا ہتھیار اٹھانے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبائی حکومت نے امن عامہ کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور عوامی و نجی املاک کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں سیاسی و معاشی عدم استحکام کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہروں کا جو سلسلہ دیکھا گیا ہے، اس کے پس منظر میں حکومت نے یہ تفیصلات طے کی ہیں کہ انتشار پھیلانے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ شرجیل میمن کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو شدید معاشی چیلنجز کا سامنا ہے اور تجارتی طبقہ امن و امان کے پائیدار ماحول کا متمنی ہے۔
تجارتی و معاشی اثرات کسی بھی ملک میں امن و امان کی صورتحال براہ راست اس کی معیشت اور تجارت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ پاکستان بالخصوص سندھ کا تجارتی حب کراچی سیاسی و سماجی ہلچل سے انتہائی حساس ہے۔ احتجاجی دھرنوں، سڑکوں کی بندش اور توڑ پھوڑ کے واقعات سے نہ صرف سپلائی چین بری طرح متاثر ہوتی ہے بلکہ مقامی منڈیوں، ریٹیلرز اور روزانہ کی بنیاد پر کمانے والے مزدوروں کو بھی شدید مالی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ معاشی ماہرین اور کاروباری حلقوں کے مطابق اس طرح کے غیر یقینی حالات میں سرمایہ کار اپنے سرمایه کاری کے منصوبے معطل کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں جس سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچتا ہے۔ شرجیل میمن کے اس بیان کو کاروباری برادری کی طرف سے سراہا جا رہا ہے کیونکہ تاجروں کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ دکانوں، مارکیٹوں اور تجارتی شاہراہوں کو ہر قسم کے دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں سے محفوظ رکھا جائے تاکہ معاشی پہیہ بلا تعطل چلتا رہے۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ریاست عوام کے جان و مال کے تحفظ کی آئینی ذمہ دار ہے اور اس میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ شرجیل میمن نے زور دے کر کہا کہ حکومت نے ہمیشہ سیاسی جماعتوں اور شہریوں کے جائز مطالبات سننے کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں، تاہم مذاکرات کے دروازے بند کر کے تشدد کا راستہ اپنانے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ دوسری جانب، اپوزیشن جماعتوں اور مختلف تنظیموں کا اپنا مؤقف ہے کہ پُرامن احتجاج ان کا جمہوری اور بنیادی حق ہے جسے طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی جا रही ہے۔ تاجر برادری اور سول سوسائٹی کا اس تمام صورتحال پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، تاہم اکثریت کا یہی خیال ہے کہ سیاسی کشمکش کو سڑکوں پر لانے کے بجائے پارلیمنٹ اور مذامتی میز پر حل کیا جانا چاہیے تاکہ عامتہ الناس اور معیشت مزید متاثر نہ ہوں۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ کے تناظر میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے کتنی مؤثر حکمت عملی اپناتی ہیں۔ اگر حکومتی دعوؤں کے مطابق قانون شکنی پر فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی تو اس سے نہ صرف ریاست کی رٹ مضبوط ہوگی بلکہ کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کو بھی ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ، سیاسی مفاہمت اور ڈائیلاگ کے دروازے کھلے رکھنا بھی ناگزیر ہے تاکہ ملک کو مزید انتشار سے بچایا جا سکے۔ کالیار ٹریڈرز کے نقطہ نظر سے، تاجر برادری آنے والے دنوں میں امن و امان کے اس تسلسل کو سراہے گی جو تجارتی اور اقتصادی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp