Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

ریاض ایئرپورٹ کی جزوی بندش کے تناظر میں سعودی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے اضافی پروازوں کا فیصلہ

ریاض ایئرپورٹ کی عارضی بندش اور پروازوں کے تعطل کے بعد سعودی ایئرلائن نے پاکستانی مسافروں کی بروقت آمد و رفت یقینی بنانے کے لیے خصوصی اضافی پروازیں چلانے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔

ریاض ایئرپورٹ کی جزوی بندش کے تناظر میں سعودی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے اضافی پروازوں کا فیصلہ

اہم ترین حقائق و پس منظر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بعض تکنیکی وجوہات اور آپریشنل دباؤ کے باعث پروازوں کی آمد و رفت میں تعطل پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں عالمی اور علاقائی فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا۔ اس غیر متوقع صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب کی قومی ایئرلائن (سعودیہ) نے پاکستان کے مختلف شہروں کے لیے خصوصی اور اضافی پروازیں چلانے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے ہوائی اڈوں پر پھنسے ہوئے ہزاروں عمرہ زائرین، قانونی اقامہ رکھنے والے محنت کشوں اور کاروباری مسافروں کو ان کی منزلوں تک پہنچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر فلائٹ شیڈول ازسرنو ترتیب دیا گیا ہے۔ ایوی ایشن حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سفری دباؤ کو فوری طور پر کم کرنا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات پاکستان اور سعودی عرب کے مابین فضائی سرگرمیوں کا تعطل محض مسافروں کی حد تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے گہرے معاشی اثرات دونوں ممالک کی تجارتی سرگرمیوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ ریاض ایئرپورٹ پر بندش کے باعث دوطرفہ کارگو ترسیلات بالخصوص جلد خراب ہونے والی غذائی اشیاء، برآمدی پھل اور ادویات کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ فضائی آمد و رفت میں خلل سے پاکستانی تارکین وطن کی جانب سے ترسیلاتِ زر اور سفری اخراجات کے بجٹ میں بھی عارضی غیر یقینی کیفیت پیدا ہوئی۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق بروقت اضافی پروازوں کے اجرا سے ایوی ایشن انڈسٹری، ٹریول ایجنسیوں اور برآمدی شعبے کو بڑے مالی نقصان سے بچا لیا گیا ہے، جس سے مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل سعودی ایوی ایشن اتھارٹی اور سعودی ایئرلائنز کی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ مسافروں کا تحفظ اور ان کے سفری شیڈول کو کم سے کم متاثر ہونے دینا ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مسافروں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اضافی پروازوں کے ذریعے تمام مسافروں کو بغیر کسی اضافی مالی بوجھ کے ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ دوسری جانب، پاکستانی سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) اور وزارت اوورسیز پاکستانیز نے سعودی حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ ٹریول ایجنٹس ایسوسی ایشن اور تاجر برادری نے بھی فلائٹ آپریشن کی فوری بحالی کو سراہتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ مسافروں کو بروقت معلوماتی معاونت فراہم کی جائے تاکہ ہوائی اڈوں پر مزید رش نہ بنے۔

مستقبل کا منظرنامہ آئندہ چند روز کے دوران ریاض ایئرپورٹ پر معمول کی سرگرمیاں مکمل طور پر بحال ہونے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔ ایوی ایشن ماہرین کا خیال ہے کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے دونوں ممالک کے ایوی ایشن ریگولیٹرز کے درمیان مستقل رابطے اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ کے طریقہ کار کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ آنے والے دنوں میں اضافی پروازوں کے مکمل نفاذ سے مسافروں کا دباؤ بتدریج ختم ہو جائے گا، جس سے تجارتی مال برداری کی رفتار بھی معمول پر آ جائے گی۔ فضائی کمپنیوں کو مستقبل میں ایسے تکنیکی تعطل سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی بیک اپ اور بہتر شیڈولنگ پالیسی مرتب کرنی ہوگی تاکہ تجارت اور عوامی آمد و رفت میں خلل نہ آئے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
ریاض ایئرپورٹ کی جزوی بندش کے تناظر میں سعودی ایئرلائن کا پاکستان کے لیے اضافی پروازوں کا فیصلہ