پاک ایران سرحد گبد پر تجارتی سرگرمیوں کی جزوی بحالی، مقامی معیشت میں بہتری کے امکانات
گوادر کے قریب پاک ایران سرحدی گزرگاہ گبد پر محدود پیمانے پر تجارتی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں، جس سے دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت کے فروغ کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں۔

اہم ترین حقائق و پس منظر پاکستان اور ایران کے مابین اقتصادی روابط کو فروغ دینے کے تناظر میں گوادر کے نزدیک واقع اہم سرحدی گزرگاہ گبد (250 پوائنٹ) پر تجارتی سرگرمیاں ایک بار پھر محدود پیمانے پر بحال ہو گئی ہیں۔ متعلقہ حکام اور کسٹمز ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کی باہمی رضامندی کے بعد تجارتی سامان بردار گاڑیوں کی جانچ پڑتال کے عمل کو باقاعدہ بنا کر سرحد کو مال برداری کے لیے کھولا گیا ہے۔ اس سے قبل سیکیورٹی خدشات اور انتظامی امور کے باعث سرحد پر تجارتی نقل و حرکت تعطل کا شکار ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں سرحد کے دونوں اطراف مال بردار گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی تھیں۔ انتظامیہ کے مطابق ابتدائی مرحلے میں ضروری اشیائے خورونوش، پھلوں اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی ترسیل کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ سرحدی اضلاع میں بنیادی اشیا کی بلا رکاوٹ دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔
تجارتی و معاشی اثرات گبد سرحد کی جزوی بحالی سے بلوچستان کے ساحلی علاقوں بالخصوص گوادر، کیچ اور ملحقہ منڈیوں میں مثبت معاشی اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ مقامی سطح پر اشیائے خورونوش بالخصوص ایرانی ایل پی جی اور پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں روانی آنے سے قیمتوں میں استحکام کا امکان پیدا ہوا ہے۔ ریٹیل اور ہول سیل مارکیٹوں میں سامان کی دستیابی نہ ہونے کے سبب پیدا ہونے والا دباؤ اب کافی حد تک کم ہوگا۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق پاک ایران باضابطہ قانونی تجارت کی بحالی سے جہاں قومی خزانے کو کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکسوں کی مد میں آمدنی حاصل ہوگی، وہیں غیر رسمی اور غیر قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی بھی ممکن ہو سکے گی۔ سرحدی گزرگاہوں کی فعالیت سے مقامی مزدوروں، ٹرانسپورٹرز اور چھوٹے تاجروں کو روزگار کے براہ راست مواقع میسر آتے ہیں۔
فریقین کا مؤقف اور ردعمل مقامی تاجر تنظیموں اور چیمبر آف کامرس کے نمائندوں نے گبد تجارتی راستے کی جزوی بحالی کا خیر مقدم کیا ہے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ سرحد کو مکمل صلاحیت کے ساتھ فعال کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تاجروں کا مؤقف ہے کہ محدود پیمانے پر سرگرمیاں بحال ہونے سے ان کی بڑی سرمایہ کاری تاحال بلاک ہے، اس لیے ضروری ہے کہ کسٹمز کلیئرنس کے عمل کو خودکار بنایا جائے اور سرحدی اوقات کار میں اضافہ کیا جائے۔ دوسری جانب سرحدی اور کسٹمز حکام کا مؤقف ہے کہ تجارتی سرگرمیوں کو بتدریج وسعت دی جائے گی، اور پہلے مرحلے میں سیکیورٹی انتظامات اور قانونی جانچ پڑتال کے طریقہ کار کو جدید خطوط پر استوار کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ آئندہ دنوں میں پاک ایران مشترکہ تجارتی کمیشن اور سرحدی انتظامیہ کے مابین مستقل میکانزم طے پانے کی قوی امید ہے۔ اگر سیکیورٹی صورتحال مستحکم رہی تو گبد سرحد کو چوبیس گھنٹے تجارتی مقاصد کے لیے کھولے جانے پر غور کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ سالانہ تجارتی حجم میں خاطر خواہ اضافہ متوقع ہے۔ گوادر بندرگاہ کی موجودگی اور اس سے منسلک بین الاقوامی لاجسٹک کوریڈور کے باعث گبد بارڈر مستقبل میں پاکستان اور ایران کے مابین اقتصادی تعاون کا مرکزی محور بن سکتا ہے، جس کے لیے قانونی اور مواصلاتی انفراسٹرکچر کی فوری اپ گریڈیشن ناگزیر ہے۔
Join Our Official WhatsApp Channel
Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp