Operating across Pakistan and Saudi Arabia

Back to All Stories

پنجاب میں موسم سرما کے لیے اسکولوں کے نئے اوقات کار جاری، معاشی و انتظامی اثرات کا جائزہ

حکومت پنجاب نے موسم سرما کی شدت کے پیش نظر اسکولوں کے نئے اوقات کار کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کا اطلاق صوبے بھر کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں پر ہوگا۔

پنجاب میں موسم سرما کے لیے اسکولوں کے نئے اوقات کار جاری، معاشی و انتظامی اثرات کا جائزہ

اہم ترین حقائق و پس منظر حکومت پنجاب کے محکمہ اسکول ایجوکیشن نے صوبے بھر میں موسم سرما کی آمد اور صبح کے اوقات میں سردی و اسموگ کی شدت میں اضافے کے پیش نظر اسکولوں کے نئے اوقات کار کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جاری کردہ حکومتی اعلامیے کے مطابق سنگل شفٹ والے تمام سرکاری اور نجی اسکول پیر سے جمعرات تک صبح پونے نو بجے کھلیں گے اور دوپہر ڈھائی بجے بند ہوں گے، جبکہ جمعہ کے روز تدریسی سرگرمیاں ساڑھے بارہ بجے اختتام پذیر ہوں گی۔ ڈبل شفٹ والے تعلیمی اداروں کے لیے پہلی شفٹ صبح پونے آٹھ بجے سے دوپہر بارہ بجے تک اور دوسری شفٹ دوپہر ساڑھے بارہ بجے سے شام پانچ بجے تک مقرر کی گئی ہے۔ یہ فیصلہ موسمیاتی تغیرات، شدید دھند اور اسموگ کے دوران نرسری سے لے کر ثانوی درجے کے طلبہ کو موسمی بیماریوں اور صبح کے شدید سرد ماحول سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔

تجارتی و معاشی اثرات اسکولوں کے اوقات کار میں اس تبدیلی کے ملکی و صوبائی معیشت پر براہ راست اور بالواسطہ اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دفتری اور کاروباری اوقات کے ساتھ تعلیمی اداروں کے کھلنے کے وقت میں تقریباً ایک گھنٹے کے فاصلے سے شہری علاقوں میں ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی، جس کے نتیجے میں یومیہ بنیادوں پر لاکھوں لیٹر ایندھن کی بچت ممکن ہو سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ وین سروسز، رکشہ ڈرائیورز اور پبلک ٹرانسپورٹرز کے روٹس اور آپریشنل اخراجات پر بھی اس کا مثبت اثر پڑے گا۔ اگرچہ صبح کے وقت مارکیٹوں میں رش کے اوقات تبدیل ہونے سے اسکول کینٹینز، اسٹیشنری و یونیفارم وینڈرز اور ناشتے کے مقامی کاروباری مراکز کے یومیہ منافع پر وقتی اثر پڑتا ہے، تاہم نقل و حمل کے بہتر نظم کی وجہ سے تجارتی نقل و حرکت اور لاجسٹکس کو فائدہ پہنچے گا۔ بجلی اور گیس کی بچت کے حوالے سے بھی ڈے لائٹ آورز کے زیادہ سے زیادہ استعمال سے عوامی اخراجات میں کمی دیکھی جائے گی۔

فریقین کا مؤقف اور ردعمل صوبائی وزیر تعلیم اور اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اوقات کار میں تبدیلی کا بنیادی مقصد بچوں کی صحت، تحفظ اور تدریسی حرج کو کم سے کم رکھنا ہے تاکہ سخت موسم کے باوجود تعلیمی تسلسل برقرار رہے۔ دوسری جانب نجی اسکولوں کی تنظیموں نے نوٹیفکیشن کا خیرمقدم تو کیا ہے لیکن ساتھ ہی یہ مؤقف بھی اپنایا ہے کہ نصاب کی بروقت تکمیل کے لیے تدریسی دورانیے کو مناسب حد میں رکھنا ناگزیر ہے۔ والدین کی جانب سے اس فیصلے کو مجموعی طور پر سراہا گیا ہے، بالخصوص کم عمر بچوں کے والدین نے شدید سردی میں اسکول کی تاخیر سے شروعات کو راحت کا باعث قرار دیا ہے۔ تاجر برادری نے بھی ٹریفک کے سنگین مسائل سے بچاؤ کے تناظر میں اوقات کے تعین کو احسن اقدام ٹھہرایا ہے۔

مستقبل کا منظرنامہ ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں اسموگ یا سردی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ہوتا ہے تو پنجاب حکومت کو تدریسی اوقات میں مزید نرمی یا بعض اضلاع میں عارضی طور پر آن لائن کلاسز کا آپشن بھی زیر غور لانا پڑ سکتا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے تمام اسکولوں کو جاری کردہ نوٹیفکیشن پر سختی سے عمل درآمد کرانے کے لیے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔ آئندہ دنوں میں سردی کی باضابطہ لہر اور دھند کے تناظر میں یہ نئے اوقات کار معمولات زندگی کو متوازن رکھنے اور معاشی نقصان کو کم سے کم کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔

Join Our Official WhatsApp Channel

Receive live commodity alerts, policy changes, and commercial intelligence directly on WhatsApp.

Join Channel Now
Forward this report to business partners:Share on WhatsApp
پنجاب میں موسم سرما کے لیے اسکولوں کے نئے اوقات کار جاری، معاشی و انتظامی اثرات کا جائزہ